۶۳۲۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ : ثَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَلَمَّا ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا عَنْ عُمَرَ ، اِبَاحَۃُ قَلِیْلِ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ ، وَقَدْ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ کَانَ مَا فَعَلَہٗ فِیْ ہٰذَا دَلِیْلًا أَنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہٖ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ، مِنَ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ ، ہُوَ السُّکْرُ مِنْہُ لَا غَیْرُ فَاِمَّا أَنْ یَکُوْنَ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنَ النَّبِیّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَوْلًا ، أَوْ رَآہٗ رَأْیًا .فَاِنَّ مَا یَکُوْنُ مِنْہُ فِیْ ذٰلِکَ یَکُوْنُ رَآہٗ رَأْیًا ، فَرَأْیُہُ فِیْ ذٰلِکَ عِنْدَنَا حُجَّۃٌ ، وَلَا سِیَّمَا اِذْ کَانَ فِعْلُہُ الْمَذْکُوْرُ فِی الْآثَارِ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا عَنْہُ بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ یُنْکِرْہُ عَلَیْہِ مِنْہُمْ مُنْکِرٌ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی مُتَابَعَتِہِمْ اِیَّاہُ عَلَیْہِ .وَہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ، وَہُوَ أَحَدُ النَّفَرِ الَّذِیْنَ رَوَوْا عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا
٦٣٢٩: شعیب نے زہری سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے۔ ان روایات سے جو ہم نے حضرت عمر (رض) سے نقل کی ہیں تھوڑے سخت نبیذ کی اباحت ثابت ہوئی حالانکہ انھوں نے بھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ” کل مسکر حرام “ کا ارشاد سن رکھا تھا آپ کا یہ فعل اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے شدید یا سخت نبیذ میں سے جس چیز کو حرام قرار دیا وہ نشہ ہی ہے نہ کہ کچھ اور۔ آپ نے یہ بات یا تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہوگی یا آپ کا اجتہاد ہے اگر آپ کا یہ اجتہاد ہے تو وہ بھی ہمارے نزدیک دلیل ہے خاص طور پر جبکہ آپ نے یہ فعل صحابہ کرام کے سامنے کیا اور کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا تو اس سے ان کا آپ کی متابعت کرنا ثابت ہوا یہ عبداللہ بن عمر (رض) ہیں جو کہ ” کل مسکر حرام “ کی روایت کو نقل کرنے والوں میں سے ہیں انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا۔