hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6334

.

الطحاوي

6334
Al Tahawi
۶۳۳۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ یُوْنُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ :اِنَّ أَہْلَنَا یَنْبِذُوْنَ نَبِیذًا فِیْ سِقَائٍ ، لَوْ أَنْہَکْتُہُ لَأَخَذَ فِیْ؟ .فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : اِنَّمَا الْبَغْیُ عَلَی مَنْ أَرَادَ الْبَغْیَ ، شَہِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ہٰذَا الرُّکْنِ ، وَأَتَاہُ رَجُلٌ بِقَدَحٍ مِنْ نَبِیذٍ .ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِ أَبِیْ أُمَیَّۃَ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ فَاکْسِرُوْہَا بِالْمَائِ .فَفِیْ ہٰذَا اِبَاحَۃُ قَلِیْلِ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ .وَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا ، اِذْ کَانَ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ ہٰذَا مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرُوِیَ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ أَنَّ نَجْعَلَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْقَوْلَیْنِ عَلَی مَعْنًی غَیْرِ الْمَعْنَی الَّذِیْ عَلَیْہِ الْقَوْلُ الْآخَرُ .فَیَکُوْنُ قَوْلُہٗ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ عَلَی الْمِقْدَارِ الَّذِیْ یُسْکِرُ مِنْہُ مِنَ النَّبِیذِ ، وَیَکُوْنُ مَا فِی الْحَدِیْثِ الْآخَرِ ، عَلَی اِبَاحَۃِ قَلِیْلِ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَحْوُ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ ہٰذَا .
٦٣٣٢: عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ ہمارے گھر والے مشک کے اندر نبیذ بناتے ہیں اگر میں اس کو ختم کروں تو مجھے ہی نقصان ہوگا ابن عمر (رض) کہتے ہیں سرکشی کا وبال اس پر ہے جو سرکشی کا ارادہ کرے میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس رکن کے قریب موجود تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی نبیذ کا پیالہ لایا پھر ابو امیہ جیسی روایت بیان کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو پانی سے توڑ دو ۔ اس روایت میں شدید نبیذ کی تھوڑی مقدار کا مباح ہونا ثابت ہوتا ہے ہمارے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ” کل مسکر حرام “ بھی مروی ہے تو ہم دونوں اقوال کا ایسا معنی کریں جو دوسرے قول سے مختلف ہو (الگ الگ محمل نکالیں) پس ” کل مسکر حرام “ والی روایت کو نبیذ کی اس مقدار پر محمول کیا جائے جو کثیر اور نشہ آور ہو اور دوسری روایت قلیل مقدار خواہ سخت ہو اس کی اباحت ثابت ہوگی اور حضرت ابو مسعود انصاری (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت ابن عمر (رض) جیسی روایت نقل کی ہے۔ روایت یہ ہے :