۶۳۳۳: أَخْبَرَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ الْیَمَانِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ قَالَ : عَطِشَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ ، فَاسْتَسْقَی ، فَأُتِیَ بِنَبِیذٍ مِنْ نَبِیذِ السِّقَایَۃِ ، فَشَمَّہُ فَقَطَّبَ فَصَبَّ عَلَیْہِ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ شَرِبَ .فَقَالَ رَجُلٌ : أَحَرَامُ ہُوَ ؟ فَقَالَ لَا وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ،
٦٣٣٣: خالد بن سعد نے حضرت ابو مسعود (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کے گرد (مطاف میں) پیاس لگی آپ نے پانی طلب کیا تو آپ کے پاس مشکیزے کا نبیذ لایا گیا تو آپ نے اس سے ترش روئی اختیار فرمائی پھر اس میں زم زم کا پانی ڈالا گیا تو آپ نے اس کو نوش فرمایا۔ ایک آدمی نے پوچھا کیا وہ حرام ہے (یعنی سخت) آپ نے فرمایا نہیں۔
تخریج : نسائی فی الاشربہ باب ٤٨۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی۔