۶۳۴۰: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیْمَۃَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ ، وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ .فَقَالَ : اِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ ، وَفْدُ عَبْدِ الْقِیسِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوْا فِی الدُّبَّائِ ، وَلَا فِی الْمُزَفَّتِ ، وَلَا فِی النَّقِیرِ ، وَاشْرَبُوْا فِی الْأَسْقِیَۃِ .فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَاِنْ اشْتَدَّ فِی الْأَسْقِیَۃِ ؟ قَالَ : صُبُّوْا عَلَیْہِ مِنَ الْمَائِ وَقَالَ لَہُمْ فِی الثَّالِثَۃِ أَوْ الرَّابِعَۃِ فَأَہْرِیْقُوْھُ .
٦٣٤٠: قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سبزوسرخ گھڑے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے وفد عبدالقیس نے دریافت کیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا۔ دبا (کدو کا برتن) مزفت (تارکول ملا ہوا برتن) اور نقیر (لکڑی کا کھلا ہوا برتن) میں مت پیو بلکہ مشکیزوں میں نبیذ پیو انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگرچہ مشکیزے میں سخت ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا اس میں پانی ڈال لو۔ آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا پھر اس کو گرا دو ۔