۶۳۴۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ ، قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیْمَۃَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہٗ سُئِلَ عَنِ الْجَرِّ ، فَذَکَرَ مِثْلَ ذٰلِکَ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَاحَ لَہُمْ أَنْ یَشْرَبُوْا مِنْ نَبِیذِ الْأَسْقِیَۃِ ، وَاِنْ اشْتَدَّ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَاِنَّ فِیْ أَمْرِہِ اِیَّاہُمْ بِاِہْرَاقِہِ یُعَدُّ ذٰلِکَ دَلِیْلًا عَلٰی نَسْخِ مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْاِبَاحَۃِ ؟ .قِیْلَ لَہُمْ : وَکَیْفَ یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ ؟ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ کَلَامِہِ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَیْنِہَا وَالسُّکْرُ مِنْ کُلِّ شَرَابٍ .وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِاِسْنَادِہِ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ہٰذَا الْکِتَابِ ، وَہُوَ الَّذِیْ رَوٰی عَنْہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذَکَرْتُ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ التَّحْرِیْمَ فِی الْأَشْرِبَۃِ کَانَ عَلَی الْخَمْرِ بِعَیْنِہَا ، قَلِیْلِہَا وَکَثِیْرِہَا ، وَالسُّکْرُ مِنْ غَیْرِہَا .وَکَیْفَ یَجُوْزُ عَلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَعَ عِلْمِہٖ وَفَضْلِہٖ ، أَنْ یَکُوْنَ قَدْ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یُوْجِبُ تَحْرِیْمَ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ ، ثُمَّ یَقُوْلُ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَیْنِہَا ، وَالسُّکْرُ مِنْ کُلِّ شَرَابٍ ؟ فَیُعَلِّمُ النَّاسَ أَنَّ قَلِیْلَ الشَّرَابِ مِنْ غَیْرِ الْخَمْرِ وَاِنْ کَانَ کَثِیْرُہُ یُسْکِرُ ، حَلَالٌ ؟ ہٰذَا غَیْرُ جَائِزٍ عَلَیْہِ عِنْدَنَا .وَلٰـکِنَّ مَعْنَی مَا أَرَادَ بِاِہْرَاقِ النَّبِیذِ فِیْ حَدِیْثِ قَیْسٍ : أَنَّہٗ لَمْ یَأْمَنْہُمْ عَلَیْہِ أَنْ یُسْرِعُوْا فِی شُرْبِہٖ ، فَیَسْکَرُوْا ، وَالسُّکْرُ مُحَرَّمٌ عَلَیْہِمْ ، فَأَمَرَہُمْ بِاِہْرَاقِہِ لِذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ مِثْلِ ہٰذَا أَیْضًا ،
٦٣٤١: قیس بن حبتر نے ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ان سے گھڑے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے اسی طرح بیان کیا۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبیذ کی مشکوں میں ان کو اجازت دی خواہ وہ گاڑھا ہوجائے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ کا گرا دینے کا حکم اباحت کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ بات کس طرح کہی جاسکتی ہے ؟ حالانکہ ابن عباس (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے بعد یہ الفاظ ہیں شراب بعینہٖ حرام ہے اور ہر مشروب سے نشہ والی مقدار حرام ہے۔ (نسائی فی الاشربہ باب : ٤٨) یہ روایت ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں تو اس سے یہ بات پر دلالت مل گئی کہ اشربہ کے سلسلہ میں ذاتی طور پر حرمت شراب سے متعلق ہے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور اس کے علاوہ مشروبات میں نشہ آور مقدار حرام ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ابن عباس (رض) اپنے علم و فضل کے باوجود جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت کریں کہ نبیذ شدید حرام ہے۔ پھر خود ہی فرمائیں کہ اصل حرام تو شراب ہے اور باقی تمام مشروبات نشہ دیں تو حرام ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ خمر کے علاہ مشروبات اگرچہ زیادہ مقدار کی صورت میں نشہ دیں لیکن جب تھوڑی مقدار میں ہوں تو حلال ہیں ہمارے لیے ان کے متعلق ایسا کہنا جائز نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں روایت قیس میں بہانے کا تذکرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خطرہ محسوس ہوا کہ وہ شراب پینے کے لیے جلدی کریں اور پھر بےہوش ہوجائیں اور نشہ والی مقدار تو حرام ہے۔ فلہذا آپ نے ان کو گرا دینے کا حکم فرمایا۔ اس کی مثال یہ روایت ہے۔