۶۳۷۳: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ : قُلْت لِابْنِ عُمَرَ : أَخْبِرْنِیْ عَمَّا نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہُ مِنَ الْأَوْعِیَۃِ ، وَفَسِّرْہُ لَنَا بِلُغَتِنَا .قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْحَنْتَمِ ، وَہِیَ الَّتِیْ تُسَمُّوْنَہَا الْجَرَّۃَ ، وَنَہٰی عَنِ الدُّبَّائِ ، وَہِیَ الَّتِیْ تُسَمُّوْنَہَا الْقَرْعَۃَ ، وَنَہٰی عَنِ الْمُزَفَّتِ ، وَہِیَ الْمُقَیَّرَۃُ ، وَنَہٰی عَنِ النَّقِیرِ وَہِیَ النَّخْلَۃُ تُشَحُّ شَحًّا وَتُنْقَرُ نَقْرًا ، وَأَمَرَ أَنْ تُنْبَذَ فِی الْأَسْقِیَۃِ .
٦٣٧٣: زاذان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے کہا کہ مجھے وہ برتن بتلاؤ جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا اور ہماری لغت میں اس کی تشریح کرو۔ انھوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنتم سے منع فرمایا اور یہ وہی ہے جس کو تم گھڑا کہتے ہو اور دباء سے منع فرمایا اور یہ وہی ہے جس کو تم قرعہ کہتے ہو اور مزفت سے منع فرمایا اور یہ وہی ہے جس کو تم مقیرہ کہتے ہو (یعنی تارکول ملا ہوا برتن) اور نقیر سے منع فرمایا اور یہ وہی کھجور ہے جس میں کھدائی کی جاتی ہے یعنی لکڑی میں کھدائی کر کے برتن بنادیا جائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ مشکوں میں نبیذ بنائی جائے۔