۶۴۵۱: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ قَالَ : ثَنَا أَبُو کَامِلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی ، عَنْ أَبِیْ زَیْدٍ ، عَنْ مَعْقِلٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی کَرَاہَۃِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَۃِ ، لِغَائِطٍ ، أَوْ بَوْلٍ ، فِی جَمِیْعِ الْأَمَاکِنِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلَی ذٰلِکَ ، أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِاسْتِقْبَالِ الْقِبْلَۃِ ، لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فِی الْأَمَاکِنِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٤٥١: ابو زید نے معقل سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے پیشاب پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ اور پشت کرنے کو تمام مقامات میں ناپسند قرار دیا ہے اور انھوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے اس قول کو اختیار کرنے والوں میں امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ شامل ہیں۔ پیشاب پاخانے کے لیے قبلہ کی طرف رخ کرنے میں مکانات میں کوئی حرج نہیں اور انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ہے۔