hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6465

.

الطحاوي

6465
Al Tahawi
۶۴۶۳: وَحَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسَی ، قَالَ : ثَنَا عِیْسَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہٗ سَأَلَہٗ عَنِ اخْتِلَافِ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : صَدَقَا وَاللّٰہِ، أَمَّا حَدِیْثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، فَعَلَی الصَّحَارَی ، اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوْھُمْ ، وَاِنَّ حُشُوْشَکُمْ ہٰذِہٖ، لَا قِبْلَۃَ فِیْہَا .فَ عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَیْ یُحْمَلُ ہٰذِہِ الْآثَارُ حَتّٰی لَا یَتَضَادَّ مِنْہَا شَیْئٌ .
٦٤٦٣: عبداللہ بن موسیٰ نے عیسیٰ سے انھوں نے شعبی سے روایت کی ہے کہ میں نے ان سے ان دونوں روایتوں کے اختلاف کے بارے میں پوچھا تو شعبی کہنے لگے اللہ کی قسم دونوں نے سچ کہا حدیث ابوہریرہ (رض) صحراؤں کے متعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے نماز پڑھتے ہیں پس ان کی طرف رخ کرنے کی ممانعت فرمائی اور تمہارے یہ بیت الخلاء یعنی جو گھروں میں ہیں ان میں کوئی قبلہ کا لحاظ نہیں ان آثار کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا تاکہ ان میں کوئی روایت دوسری کے متضاد نہ ہے۔
اس بات میں امام طحاوی (رح) نے فریق ثانی کے قول کو ترجیح دی ہے اور ترتیب میں اسے تیسرے نمبر پر آخر میں لانا چاہیے تھا۔ فریق اول و ثالث کی روایات کی مناسب تاویل فرمائی ہے۔