۶۴۶۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ طَلْحَۃُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکَلَ مِنْ خَضْرَاوَاتِکُمْ ہٰذِہٖ، ذَوَاتِ الرِّیحِ ، فَلَا یَقْرَبَنَّا فِیْ مَسَاجِدِنَا ، فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذَّی مِمَّا یَتَأَذَّی مِنْہُ بَنُو آدَمَ .
٦٤٦٤: عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرإﷺ نے فرمایا جو کوئی تمہاری ان سبزیات میں سے کھائے جو کہ بدبو والی ہیں وہ ہماری مساجد کے قریب مت جائے اس لیے کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے ایذا پہنچتی ہے جن سے اولاد آدم کو ایذا پہنچتی ہے۔
بعض لوگوں نے بو والی سبزیات کے استعمال کو مطلقا ممنوع قرار دیا۔
فریق ثانی : ان کو کھانے کی ممانعت حرمت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ لوگوں کی ایذا کی وجہ سے ہے اس لیے پکی ہوئی کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت نہ ہوگی اسی قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔