۶۴۷۳: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ثَنَا حَکَمُ بْنُ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی الرَّبَابِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مَسِیْرٍ لَہٗ وَاِنَّا نَزَلْنَا فِیْ مَکَان فِیْہِ شَجَرُ ثُوْمٍ ، فَبَثَّ أَصْحَابُہُ فِیْہٖ، فَأَکَلُوْا مِنْہٗ، ثُمَّ غَدَوْا اِلَی الْمُصَلَّی .فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِیحَ الثُّوْمِ ، فَقَالَ لَا تَقْرَبُوْا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ ، ثُمَّ تَأْتُوا الْمَسَاجِدَ .قَالَ : ثُمَّ جَائُ وْا الثَّانِیَۃَ اِلَی الْمُصَلّٰی ، فَوَجَدَ رِیْحَہَا ، فَقَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ ، فَلَا یَقْرَبَنَّ الْمُصَلّٰی .
٦٤٧٣: ابو رباب نے حضرت معقل بن یسار (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ہم ایک ایسی جگہ اترے جہاں لہسن کے پودے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ وہاں پھیل گئے اور اس میں سے کھایا پھر وہ صبح سویرے نماز کی طرف گئے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لہسن کی بو پائی آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس درخت کو کھا کر مساجد میں مت آؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ دوسری مرتبہ مسجد کی طرف آئے تو آپ نے لہسن کی بو پائی تو ارشاد فرمایا جس نے اس سبزی کو کھایا ہو وہ ہمارے قریب مت آئے یا یہ فرمایا کہ ہماری مساجد میں وہ ہمیں ایذاء نہ پہنچائے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کچھ لوگوں نے بو والی سبزیوں کا کھانا سرے سے مکروہ قرار دیا اور ان آثار کو انھوں نے دلیل بنایا۔ دوسروں نے کہا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کھانے سے منع فرمایا مگر اس وجہ سے نہیں کہ وہ حرام ہے بلکہ اس کی بو حاضرین مسجد کو ایذا پہنچانے والی ہے اور دوسری روایات اس پر دلالت کرتی ہیں۔