۶۴۷۵: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، اِنَّکُمْ لَتَأْکُلُوْنَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ خَبِیْثَتَیْنِ ، ہٰذَا الثُّوْمُ ، وَہٰذَا الْبَصَلُ ، وَلَقَدْ کُنْتُ أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْجَدُ مِنْہُ رِیحُہٗ، فَیُؤْخَذُ بِیَدِہٖ، فَیُخْرَجُ اِلَی الْبَقِیعِ ، فَمَنْ کَانَ أَکِلَہُمَا ، فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا .فَہٰذَا عُمَرُ ، قَدْ أَخْبَرَ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ، بِمَنْ أَکَلَہَا عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَبَاحَ ہُوَ أَکْلَہُمَا ، بَعْدَ أَنْ یُمَاتَا طَبْخًا .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ النَّہْیَ عَنْہُ، لَمْ یَکُنْ لِلتَّحْرِیْمِ .
٦٤٧٥: معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے لوگو ! تم یہ ناپسندیدہ پودے کھاتے ہو یعنی لہسن اور پیاز اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں دیکھا کرتا تھا کہ جس سے ان کی بو پائی جاتی اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا پس جو شخص تم میں سے ان دونوں کو استعمال کرے تو پکا کر ان کی بو کو ختم کرلے۔ یہ عمر (رض) ہیں جنہوں نے بتلا دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں جو شخص کھاتا تھا وہ کیا کرتا تھا حضرت عمر (رض) نے ان کی بو کو ختم کر کے کھانے کو مباح قرار دیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ ممانعت حرمت کے لیے نہیں ہے۔
تخریج : مسلم فی المساجد روایت ٧٨‘ نسائی فی المساجد باب ١٧‘ ابن ماجہ فی الاطعمہ باب ٥٩‘ مسند احمد ١؍١٥‘ ٤؍١٩۔