hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6479

.

الطحاوي

6479
Al Tahawi
۶۴۷۷: وَقَدْ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ھِلَالٍ الرَّاسِبِیُّ وَغَیْرُہٗ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ أَبِیْ مُوْسَی ، عَنْ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ : أَکَلْت الثُّوْمَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَیْتُ الْمَسْجِدَ ، وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَکْعَۃٍ ، فَدَخَلْتُ مَعَہُمْ فِی الصَّلَاۃِ ، فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِیحَہٗ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیْثَۃِ ، فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ، حَتّٰی یَذْہَبَ رِیحُہَا .فَأَتْمَمْتُ صَلَاتِی ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ اِلَّا أَعْطَیْتنِیْ یَدَکَ، فَنَاوَلَنِیْ یَدَہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلْتُہَا فِیْ کُمِّی ، حَتّٰی انْتَہَیْتُ اِلٰی صَدْرِی فَوَجَدَہُ مَعْصُوْبًا فَقَالَ اِنَّ لَک عُذْرًا .فَفِی قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مَنْ أَکَلَ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیْثَۃِ ، فَلَا یَقْرَبَنَا فِیْ مَسْجِدِنَا، حَتّٰی یَذْہَبَ رِیحُہَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ اِنَّمَا نَہٰی عَنْ أَکْلِہَا لِئَلَّا یُؤْذِیَ رِیحُہَا مَنْ یَحْضُرُ الْمَسْجِدَ ، لَا لِأَنَّ أَکْلَہَا حَرَامٌ .
٦٤٧٧: ابو بردہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لہسن استعمال کیا پھر میں مسجد میں آیا اور ایک رکعت مجھ سے نکل گئی میں صحابہ کرام کے ساتھ نماز میں شامل ہوا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بو محسوس کی جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا جس نے اس بدبو دار پودے کو کھایا ہے وہ ہماری نماز کی جگہ کے قریب مت آئے جب تک کہ اس کی بو باقی ہو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ” ان من اکل من ہذہ۔۔۔“ میں اس بات کی دلیل ہے لہسن کھانے والے کو مسجد سے اس لیے روکا گیا کہ لہسن کی و حاضرین مسجد کو ایذاء نہ دے ‘ اس لیے انھیں روکا گیا کہ اس کا کھانا حرام ہے۔
تخریج : مسلم فی المساجد ٦٩؍٧١‘ ابو داؤد فی الاطعمہ باب ٤٠‘ نسائی فی المساجد باب ١٧‘ مالک فی الطہارۃ ١‘ مسند احمد ٢؍٢٦٦۔