۶۴۹۴: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیزِیُّ قَالَ : ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ حَارِثَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَثْرِبِی قَالَ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِیْہِ شَیْئٌ اِلَّا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِنْہُ قَالَ : قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنْ لَقِیْتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّی ، آخُذُ مِنْہَا شَیْئًا ؟ فَقَالَ اِنْ لَقِیْتَہَا تَحْمِلُ شَفْرَۃً وَأَزْنَادًا ، بِخَبْتِ الْجَمِیشِ کَذَا فِی النُّسَخِ الْمَنْقُوْلِ عَنْہَا فَلَا تُہِجْہَا .فَہٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، تَمْنَعُ مَا تَوَہَّمَ مَنْ ذَہَبَ فِیْ تَأْوِیْلِ الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ، اِلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ .وَلَوْ ثَبَتَ مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ ، لَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ الْحَدِیْثُ ، کَانَ فِیْ حَالِ وُجُوْبِ الضِّیَافَۃِ ، حِیْنَ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَا ، وَأَوْجَبَہَا لِلْمُسَافِرِیْنَ ، عَلَی مَنْ حَلُّوْا بِہٖ .
٦٤٩٤: عمارہ بن حارثہ نے عمرو یثربی سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی اس کی خوش طبعی کے بغیر لے ‘ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر میں اپنے چچازاد بھائی کی بکریاں پاؤں کیا اس میں سے کوئی چیز لے سکتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تو ان بکریوں کو اس حال میں پالے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو اور بےآب وگیاہ زمین میں ہو تب بھی اس کو پریشان نہ کر۔ پہلی حدیث کی جو تاویل فریق اول نے کی اس سے جو وہم پیدا ہوتا تھا یہ تمام آثار اس کی تردید کرتے ہیں اگر بالفرض پہلی روایت کی وہ تاویل مان بھی لی جائے تب بھی یہ احتمال ہے کہ اس روایت کا تعلق اس موقع سے ہے جب ضیافت لازم ہوجاتی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسافرین کے لیے جہاں وہ اتریں اس کو لازم قرار دیا اس روایت کا تعلق اس موقع سے ہے (جیسا کہ ان روایات سے ثابت ہے)