hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6507

.

الطحاوي

6507
Al Tahawi
۶۵۰۵: بِمَا حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ الْعَطَّارُ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ، مَوْلٰی سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ فِیْ سَفَرٍ ، فَآوَانَا اللَّیْلُ اِلَی قَرْیَۃِ دِہْقَانٍ ، وَاِذَا الْاِبِلُ عَلَیْہَا أَحْمَالُہَا .فَقَالَ لِیْ سَعْدٌ اِنْ کُنْتُ تُرِیْدُ أَنْ تَکُوْنَ مُسْلِمًا حَقًّا ، فَلَا تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا فَبِتْنَا جَائِعَیْنِ .فَہٰذَا سَعْدُ یَقُوْلُ اِنْ سَرَّک أَنْ تَکُوْنَ مُسْلِمًا حَقًّا ، فَلَا تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا فَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ اِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدَہٗ، حَقِیْقَۃُ عِلْمِہٖ بِہٖ ، اِذْ کَانَ عِنْدَہُ مِنْ أُمُوْرِ الْاِسْلَامِ ، وَلَمْ یَأْخُذْ أَہْلَ الْقَرْیَۃِ بِحَقِّ الضِّیَافَۃِ .فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّہٗ لَمْ تَکُنْ - حِیْنَئِذٍ - الضِّیَافَۃُ وَاجِبَۃً ، وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی أَعْلَمُ .
٦٥٠٥: سعد بن ابی وقاص کے مولیٰ عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں سعد (رض) کے ساتھ سفر میں تھا۔ ہم نے رات کو دہقان بستی میں قیام کیا۔ اچانک ہم نے اونٹ دیکھے کہ جن پر ان کے بوجھ لادے تھے۔ تو مجھے حضرت سعد (رض) نے فرمایا اگر تو سچا مسلمان ہے تو ان چیزوں میں سے کوئی چیز مت کھانا چنانچہ ہم نے بھوک کی حالت میں رات گزاری۔ یہ حضرت سعد (رض) جو اپنے غلام کو فرما رہے ہیں کہ اگر تو سچا مسلمان ہے تو ان کی کوئی چیز بلااجازت مت کھانا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان کو اپنے امور اسلام پر وسیع علم کی وجہ سے حق ضیافت کے متعلق معلوم تھا کہ وہ لازم نہیں۔ زبردستی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ واجب نہ رہی تھی۔ واللہ اعلم۔
امام طحاوی (رح) نے فریق ثانی کے مسلک کو ترجیح دی ہے کہ ضیافت کا وجوب منسوخ ہوچکا۔ اب کھلائے تو تبرع اور نیکی ہے۔