hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6508

.

الطحاوي

6508
Al Tahawi
۶۵۰۶: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ عَلَیْہِ أَقْبِیَۃٌ ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ أَبِیْ مَخْرَمَۃَ ، فَقَالَ : یَا بُنَیَّ ، اِنَّہٗ قَدْ بَلَغَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ عَلَیْہِ أَقْبِیَۃٌ فَہُوَ یَقْسِمُہَا ، فَاذْہَبْ بِنَا اِلَیْہِ .قَالَ : فَذَہَبْنَا ، فَوَجَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مَنْزِلِہِ فَقَالَ لِی أَبِی: یَا بُنَیَّ ، اُدْعُ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ الْمِسْوَرُ : فَأَعْظَمْتُ ذٰلِکَ، وَقُلْتُ أَدْعُو لَک رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ ، ، .فَقَالَ : یَا بُنَیَّ ، اِنَّہٗ لَیْسَ بِجَبَّارٍ. فَدَعَوْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ وَعَلَیْہِ قَبَائٌ مِنْ دِیْبَاجٍ مُزَرٌّ بِذَہَبٍ فَقَالَ یَا مَخْرَمَۃُ ، ہٰذَا خَبَّأْتُہُ لَک فَأَعْطَاہُ اِیَّاہُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا، فَقَالُوْا لَا بَأْسَ بِلُبْسِ الْحَرِیْرِ ، لِلرِّجَالِ وَالنِّسَائِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَکَرِہُوْا لُبْسَ الْحَرِیْرِ لِلرِّجَالِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِالْآثَارِ الْمُتَوَاتِرَۃِ الْمَرْوِیَّۃِ ، فِی النَّہْیِ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَمِنْہَا ، مَا
٦٥٠٦: ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں جبے آئے یہ بات ابو مخرمہ کو پہنچی تو انھوں نے کہا اے بیٹے مجھے یہ معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں کچھ جبّے آئے ہیں اور آپ ان کو تقسیم فرما رہے ہیں تو تم ہمیں وہاں لے جاؤ۔ مسور کہتے ہیں کہ ہم وہاں گئے ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے مکان میں پایا۔ میرے والد نے کہا میرے بیٹے ۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے لیے بلاؤ۔ مسور کہتے ہیں میں نے اس بات کو بڑا سمجھا اور میں نے کہا کیا میں تمہارے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلاؤں ؟ انھوں نے کہا وہ سخت خو نہیں ہیں۔ پس میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی تو آپ باہر تشریف لائے اور ایک ریشمی جبہ پہن رکھا تھا اس میں سونے کا کڑھاؤ تھا اور فرمایا اے مخرمہ یہ جبہ میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھا تھا۔ وہ جبہ آپ نے مخرمہ کو دیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ریشمی لباس میں کوئی حرج نہیں خواہ مرد پہنیں یا عورتیں اور انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا انھوں نے ریشم کا پہننا مردوں کے لیے مکروہ قرار دیا اور آثار متواترہ سے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وارد ہوئے ہیں استدلال کیا۔
تخریج : بخاری فی اللباس باب ٤٤‘ مسلم فی اللباس ١٦‘ مسند احمد ٣؍٣٨٣۔
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ریشم کا لباس مرد و عورت ہر ایک کے لیے درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ ریشم کا پہننا مکروہ تحریمی اور ممنوع ہے اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔