۶۵۶۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَبَیَّنَ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، مَنْ قَصَدَ اِلَیْہِ بِالنَّہْیِ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ ، وَأَنَّہُمْ الرِّجَالُ دُوْنَ النِّسَائِ .فَقَالَ الْآخَرُوْنَ : فَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُمَا جَعَلَا قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِیْرَ فِی الدُّنْیَا ، لَمْ یَلْبَسْہُ فِی الْآخِرَۃِ عَلَی الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ .وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٦٥٦٧: سعید بن ابی ہند نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ (رض) سے اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ان آثار سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پہلے آثار میں ممانعت سے مقصود مرد ہیں عورتیں شامل نہیں ہیں۔ حضرت ابن عمر (رض) اور ابن الزبیر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ” من لبس الحریر فی الدنیا لم یلبسہ فی الآخرہ “ کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے عام قرار دیا ہے۔ چنانچہ دلیل میں روایات ذکر کی گئی ہیں۔