۶۵۶۸: مَا حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاہَکَ قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَۃٌ ابْنَ عُمَرَ قَالَتْ : أَتَحَلَّی بِالذَّہَبِ ؟ .قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَمَا تَقُوْلُ لِیْ فِی الْحَرِیْرِ ؟ قَالَ : یُکْرَہُ ذٰلِکَ ، قَالَتْ : مَا یُکْرَہٗ؟ أَخْبِرْنِیْ، أَحَلَالٌ ہُوَ ، أَمْ حَرَامٌ ؟ قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مَنْ لَبِسُہٗ فِی الدُّنْیَا ، لَمْ یَلْبَسْہُ فِی الْآخِرَۃِ .
٦٥٦٨: یوسف بن ماہک کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ابن عمر (رض) سے دریافت کیا کہ کیا سونے کے زیور میں پہن لوں ؟ انھوں نے فرمایا جی ہاں اس نے پوچھا۔ آپ ریشم کے متعلق کیا فرماتے ہیں فرمایا یہ مکروہ ہے۔ اس نے پوچھا مکروہ کیا ہوتا ہے آپ مجھے بتلائیں کہ آیا حلال ہے یا حرام ہے ؟ کہنے لگے ہم بات کرتے تھے کہ جس نے اس کو دنیا میں پہنا وہ اس کو آخرت میں نہ پہنے گا۔