۶۵۷۴: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا حَامِدُ بْنُ یَحْیَی ، قَالَ : ثَنَا : سُفْیَانُ قَالَ ثَنَا أَیُّوْبُ بْنُ مُوْسَی ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُلَّۃً سِیَرَائَ عَلَی عُطَارِدَ ، فَکَرِہَہَا لَہٗ، وَنَہَاہُ عَنْہَا ، ثُمَّ اِنَّہٗ کَسَا عُمَرَ مِثْلَہَا .فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قُلْتَ فِیْ حُلَّۃِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ ، وَتَکْسُوْنِیْ ہٰذِہٖ۔ ؟ فَقَالَ لَمْ أَکْسُکَہَا لِتَلْبَسَہَا ، اِنَّمَا أَعْطَیْتُکَہَا ، لِتُلْبِسَہَا النِّسَائَ .فَأَخْبَرَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ قَوْلَہٗ اِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیْرُ فِی الدُّنْیَا ، مَنْ لَا خَلَاقَ لَہٗ اِنَّمَا قَصَدَ بِہٖ الرِّجَالَ دُوْنَ النِّسَائِ وَقَدْ رُوِیَ ہٰذَا، عَنْ عَلِی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
٦٥٧٤: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطارد (رض) پر ایک دھاری دار جوڑا دیکھا آپ نے وہ ان کے لیے ناپسند کیا اور آئندہ ان کو اس سے منع کردیا پھر آپ حضرت عمر (رض) اسی طرح کا کپڑا عنایت فرمایا تو حضرت عمر (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے عطارد کو اس سے منع فرمایا اور مجھے عنایت فرما رہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا یہ میں نے تمہیں خود پہننے کو نہیں دیا بلکہ تمہیں اس لیے دیا ہے تاکہ تم اپنی عورتوں کو پہناؤ۔ حضرت ابن عمر (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس روایت میں بتلا دیا کہ ” انما یلبس الحریر “ (الحدیث) اس سے مرادمرد ہیں عورتیں اس میں شامل نہیں اور یہ بات حضرت علی (رض) نے بھی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ راست نقل کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الجمعہ باب ٧‘ والہبہ باب ٢٩‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢١٣‘ واللباس باب ٧‘ نسائی فی الجمعہ باب ١١‘ والزینہ باب ٨٢‘ مالک فی اللبس ١٨‘ مسند احمد ١؍٩٢۔
روایت حضرت علی (رض) :