۶۵۸۰: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ ، قَالَ ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ زِیَادٍ ، عَنْ أَبِیْ فَاخِتَۃَ ، عَنْ جَعْدَۃَ ، عَنْ عَلِی قَالَ أَہْدَی أَمِیْرُ أَذْرَبِیجَانَ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُلَّۃً مُسَیَّرَۃً بِحَرِیْرٍ ، اِمَّا سَدَاہَا ، وَاِمَّا لُحْمَتُہَا ، فَبَعَثَ بِہَا اِلَیَّ فَأَتَیْتُہٗ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَلْبَسُہَا ؟ .قَالَ لَا ، أَکْرَہُ لَکَ مَا أَکْرَہُ لِنَفْسِی ، وَلٰـکِنْ اجْعَلْہَا خُمُرًا بَیْنَ الْفَوَاطِمَ .قَالَ : فَقَطَّعْتُ مِنْہَا أَرْبَعَ خُمُرٍ ، خِمَارًا لِفَاطِمَۃَ بِنْتَ أَسَدِ بْنِ ہَاشِمٍ أُمِّ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ، وَخِمَارًا لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَخِمَارًا لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَخِمَارًا لِفَاطِمَۃَ أُخْرَی قَدْ نَسَیْتُہَا .
٦٥٨٠: جعدہ نے حضرت علی (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ آذر بائیجان کے حاکم نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ایک جوڑا بھیجا جس میں ریشم تھا اس کا تانا بانا ریشم کا تھا یا اس کا تانا ریشم یا بانا ریشم کا تھا آپ وہ میری طرف بھیج دیا میں اسے لے کر آیا اور عرخ کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں اسے پہن لوں آپ نے فرمایا نہیں میں تمہارے لیے بھی وہ چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں بلکہ اسے فاطمہ نامی عورتوں کے درمیان دوپٹوں میں تقسیم کر دو ۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس سے چار دوپٹے بنائے۔ ایک دوپٹہ حضرت فاطمہ بنت رسول والدہ علی کے لیے ایک دوپٹہ حضرت فاطمہ (رض) بنت رسول کے لیے ایک دوپٹہ حضرت فاطمہ بنت حمزہ (رض) کے لیے اور ایک دوپٹہ ایک اور فاطمہ (رض) کے لیے بنایا۔ راوی کہتا ہے میں اس فاطمہ کی (ولدیت) بھول گیا۔