قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : قَدْ رَوَیْنَا فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْبَابِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّہْیَ ، عَنِ الْحَرِیْرِ .فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ ذٰلِکَ النَّہْیَ قَدْ وَقَعَ عَلَی قَلِیْلِہِ وَکَثِیْرِہٖ، فَکَرِہُوْا بِذٰلِکَ لُبْسَ الْمُعَلَّمِ بِعَلَمِ الْحَرِیْرِ .وَالثَّوْبِ الَّذِی لُحْمَتُہُ غَیْرُ حَرِیْرٍ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : قَدْ وَقَعَ النَّہْیُ مِنْ ذٰلِکَ عَلٰی مَا جَاوَزَ الْأَعْلَامَ ، وَعَلٰی مَا کَانَ سَدَاہُ غَیْرَ حَرِیْرٍ ، لَا عَلَی غَیْرِ ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِمَا قَدْ رَوَیْنَا فِی بَابِ لُبْسِ الْحَرِیْرِ عَنْ عُمَرَ فِی اسْتِثْنَائِہٖ، مِمَّا حَرُمَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْحَرِیْرِ ، الْأَعْلَامَ .
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : اس باب کے علاوہ ہم سابقہ باب میں ریشم کی حرمت ذکر کر آئے جو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اب اس میں دو مسلک ہیں۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ قلیل و کثیر حرام ہے چنانچہ انھوں نے ریشمی نقش ونگار والے کپڑے کو حرام قرار دیا اور وہ کپڑا جس کا باناریشمی نہ ہو (بلکہ تانا ریشمی ہو) دوسروں نے کہا نقش و نگار سے جو زائد ہو اس کے متعلق ممانعت وارد ہے اور جس کا تانا رشیم کا نہ ہو (بلکہ باناریشم کا ہو) اس کے علاوہ کی ممانعت نہیں ہے انھوں نے اس کی دلیل کے لیے جو روایات باب لبس الحریر میں حضرت عمر (رض) سے نقل کی گئی ہیں ان سے استدلال کیا ہے کہ حرام ریشم سے نقش و نگار مستثنیٰ ہے۔ حرمت ریشم تو ثابت شدہ ہے اب اس کی اقل قلیل مقدار یا نقش نگار وغیرہ بھی حرام ہیں یا نہیں اس میں دو رائے ہیں۔ قلیل و کثیر حرام ہے یہ امام مالک کا قول ہے اور امام شافعی (رح) مطلقاً رخصت کے قائل ہیں۔ فریق ثانی کا مؤقف نقش ونگار اور قلیل مقدار اس حرمت سے مستثنیٰ ہے ائمہ احناف رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (اشعہ ج ٤ ص ٥٧٩)