۶۶۰۲: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ أَنَّہٗ رَأٰی عَلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، مِطْرَفَ خَزٍّ .فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ کَانُوْا یَلْبَسُوْنَ الْخَزَّ ، وَقِیَامُہٗ حَرِیْرٌ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِلْآخَرَیْنِ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ ، أَنَّ الْخَزَّ ، یَوْمَئِذٍ ، لَمْ یَکُنْ فِیْہِ حَرِیْرٌ .فَیُقَالُ لَہُمْ : وَمَا دَلِیْلُکُمْ عَلٰی مَا ذَکَرْتُمْ ، وَقَدْ ذَکَرْنَا فِیْ بَعْضِ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، أَنَّ جُبَّۃَ سَعْدٍ کَانَ قِیَامُہَا قَزًّا .وَرَوَیْنَا عَنْہُ فِیْ کِتَابِنَا ہٰذَا، فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْبَابِ ، أَنَّہٗ دَخَلَ عَلٰی ابْنِ عَامِرٍ ، وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ ، شَطْرُہَا خَزٌّ ، وَشَطْرُہَا حَرِیْرٌ .فَکَلَّمَہُ ابْنُ عَامِرٍ فِیْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ : اِنَّمَا یَلِیْ جِلْدِی مِنْہٗ، الْخَزُّ .فَدَلَّ ہٰذَا عَلٰی أَنَّ خَزَّہُمْ کَانَ کَخَزِّ النَّاسِ مِنْ بَعْدِہِمْ ، فِیْہِ حَرِیْرٌ ، وَفِیْہِ خَزٌّ .فَفِی ثُبُوْتِ ذٰلِکَ ، ثُبُوْتُ مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مَنْ أَبَاحَ لُبْسَ الثَّوْبِ مِنْ غَیْرِ الْحَرِیْرِ الْمُعَلَّمِ بِالْحَرِیْرِ ، وَلُبْسَ الثَّوْبِ الَّذِی قِیَامُہٗ حَرِیْرٌ ، وَظَاہِرُہُ غَیْرُ حَرِیْرٍ. وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٦٦٠٢: محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) پر ریشمی تانے والی چادر دیکھی۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کی جماعت ہے جو کہ خز کو استعمال کرتے ہیں جس کا تانا ریشمی ہوتا تھا۔ اگر کوئی معترض کہے کہ فریق اول کہتا ہے کہ ان دنوں خز۔ میں ریشم نہ ہوتا تھا۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جو بات تم نے کہی اس کی آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں اس کے بالمقابل ہم نے جو آثار نقل کئے ہیں ان میں حضرت سعد (رض) کے بعض آثار میں یہ لفظ موجود ہیں کہ ” ان جبۃ سعد کان قیامہا خزا “ اس کا تانا ریشمی تھا ہم گزشتہ ابواب میں ذکر کر آئے کہ حضرت سعد (رض) حضرت عقبہ بن عامر (رض) کے ہاں گئے تو اس وقت ان کا جبہ اس طرح کا تھا کہ جس کا ایک حصہ مخلوط اور ایک حصہ ریشم کا تھا تو ابن عامر (رض) نے اس سلسلہ میں ان سے بات کی جس میں فرمایا میرے جسم سے ملے ہوئے حصہ کا کپڑا مخلوط (اون و ریشم) ہے اس سے فریق ثانی کی بات ثابت ہوتی ہے جن کے ہاں غیر ریشم ایسا کپڑا پہننا مباح ہے جس پر ریشمی نقش نگار ہوں اور اسی طرح اس کپڑے کا استعمال درست ہے جس کا تانا ریشمی اور بانا غیر ریشمی ہو۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔