hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6606

.

الطحاوي

6606
Al Tahawi
۶۶۰۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ ، عَنْ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ .وَقَالَ أَصْحَابُ الْاِمْلَائِ ، مِنْہُمْ بِشْرُ بْنُ وَلِیَدٍ ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ ، عَنْ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ یَشُدَّہَا بِالذَّہَبِ .وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ : لَا بَأْسَ أَنْ یَشُدَّہَا بِالذَّہَبِ ، کَذٰلِکَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِأَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، فِی قَوْلِہٖ الَّذِیْ رَوَاہُ مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ ، عَنْہُ، أَنَّہٗ قَدْ نُہِیَ عَنْ الذَّہَبِ وَالْحَرِیْرِ ، فَنُہِیَ عَنِ اسْتِعْمَالِہِمَا وَکَانَ مَا نُہِیَ عَنْہُ مِنَ الْحَرِیْرِ ، قَدْ دَخَلَ فِیْہِ لِبَاسُہٗ، وَعَصَبُ الْجِرَاحِ بِہٖ .فَکَذٰلِکَ مَا نُہِیَ عَنْہُ مِنِ اسْتِعْمَالِ الذَّہَبِ ، یَدْخُلُ فِیْہِ شَدُّ السِّنِّ بِہٖ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِمُحَمَّدٍ فِیْمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ ، عَلٰی أَبِیْ حَنِیْفَۃَ فِیْ رِوَایَتِہِ عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ عَنْہُ، أَنَّ مَا ذُکِرَ مِنْ تَعْصِیْبِ الْجِرَاحِ بِالْحَرِیْرِ ، اِنْ کَانَ مَا فَعَلَ ؛ لِأَنَّہٗ عِلَاجٌ لِلْجِرَاحِ ، فَلَا بَأْسَ بِہٖ ، لِأَنَّ ذٰلِکَ دَوَائٌ ، کَمَا أَبَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَامّ ، وَعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ، لُبْسَ الْحَرِیْرِ مِنَ الْحَکَّۃِ الَّتِیْ کَانَتْ بِہِمَا ، کَذٰلِکَ عَصَائِبُ الْحَرِیْرِ ، اِنْ کَانَتْ عِلَاجًا لِلْجُرْحِ لِتَقِلَّ مِدَّتُہٗ، کَمَا أَنَّ الثَّوْبَ الْحَرِیْرَ عِلَاجٌ ، لِلْحَکَّۃِ ، فَلَا بَأْسَ بِہَا ، وَاِنْ یَکُنْ عِلَاجًا لِلْجُرْحِ ، فَکَانَتْ ہِیَ وَسَائِرُ الْعَصَائِبِ فِیْ ذٰلِکَ سَوَائً ، فَہِیَ مَکْرُوْہَۃٌ .فَکَذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا مِنَ الذَّہَبِ ، اِنْ کَانَ یُرَادُ مِنْہُ أَنَّہٗ لَا یُنْتِنُ کَمَا تُنْتِنُ الْفِضَّۃُ ، فَلَا بَأْسَ بِہٖ ، وَقَدْ أَبَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَرْفَجَۃَ بْنِ أَسْعَدَ ، أَنْ یَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَہَبٍ . قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ ، قَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی الرَّجُلِ یَتَحَرَّکُ سِنُّہٗ، فَیُرِیْدُ أَنْ یَشُدَّہَا بِالذَّہَبِ .فَقَالَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ : لَیْسَ لَہٗ ذٰلِکَ ، وَأَنْ یَشُدَّہَا بِالْفِضَّۃِ کَذٰلِکَ .
٦٦٠٣: علی بن معبد نے محمد بن حسن اور ابو یوسف نے امام ابوحنیفہ (رح) سے یہ قول نقل کیا ہے۔ اصحاب امالی کا قول ہے کہ بشر بن ولید نے ابو یوسف سے انھوں نے امام ابوحنیفہ (رح) سے نقل کیا دانتوں کو سونے (کے تار) سے باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام محمد کا قول ہے کہ سونے (کے تار) سے باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل ہے کہ محمد (رح) نے ابو یوسف (رح) سے جو امام ابوحنیفہ (رح) کا قول نقل کیا ہے اس میں یہ ہے کہ سونے اور ریشم کے استعمال سے منع کیا گیا اور ریشم کی اس ممانعت میں ریشم کا لباس اور زخموں پر پٹی باندھنا بھی شامل ہے اسی طرح سونے کے استعمال سے منع کیا گیا اس میں دانت کا باندھنا بھی شامل ہے۔ امام محمد کی دلیل ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا جو قول محمد (رح) نے ابو یوسف (رح) کی وساطت سے نقل کیا اس میں زخم پر مرہم پٹی کے لیے ریشمی پٹی کا جواز مذکور ہے کیونکہ یہ دواء ہے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر اور عبدالرحمن بن عوف (رض) کے لیے خارش کی وجہ سے ریشم کے پہننے کو جائز قرار دیا۔ اسی طرح ریشمی کپڑے سے مرہم پٹی کا بھی حکم ہے۔ اگر اس سے کم مدت میں زخم درست ہوتا ہو جیسا کہ ریشمی کپڑا خارش کا علاج ہے تو پھر کوئی حرج نہیں اور اگر زخم کا علاج نہ ہو تو پھر یہ اور دوسری پٹیاں برابر ہیں اس صورت میں ریشمی پٹی مکروہ ہوگی پس اسی طرح سونے کا حکم ہے اگر اس سے بدبو سے حفاظت ہو اور چاندی کی طرح بدبو نہ دینے لگے تو تب کوئی حرج نہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفجہ بن اسعد (رض) کے لیے سونے کی ناک بنوانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ (روایت یہ ہے)
سونے کے تار سے دانت کی بندش جائز ہے یا نہیں۔ سونے کے تار سے بندش درست نہیں البتہ چاندی سے درست ہے۔ اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) نے اختیار فرمایا۔ !: سونے کے تار سے دانتوں کی بندش درست ہے اس قول کو امام محمد (رح) نے اختیار کیا اور امام ابو یوسف (رح) کا قول بھی یہی ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : اگر کسی آدمی کا دانت ہلنے لگے وہ اس کو سونے سے مضبوط کرنا اور باندھنا چاہتا ہو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سونے سے باندھنا جائز نہیں۔ البتہ چاندی سے ان کو باندھ سکتا ہے۔