۶۶۵۴: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی ، عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : قَدِمَ عَمْرُو بْنُ سَعِیْدٍ ، مَعَ أَخِیْہٖ، عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ اِلٰی حَلْقَۃٍ فِیْ یَدِہِ فَقَالَ : مَا ہٰذِہِ الْحَلْقَۃُ فِیْ یَدِک ؟ قَالَ : ہٰذِہِ حَلْقَۃٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .قَالَ : فَمَا نَقْشُہَا ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ قَالَ أَرِنِیْہِ : فَتَخَتَّمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَاتَ وَہُوَ فِیْ یَدِہِ ثُمَّ أَخَذَہُ أَبُوْبَکْرٍ بَعْدَ ذٰلِکَ ، فَکَانَ فِیْ یَدِہٖ، ثُمَّ أَخَذَہُ عُمَرُ ، فَکَانَ فِیْ یَدِہٖ، ثُمَّ أَخَذَہُ عُثْمَانُ ، فَکَانَ فِیْ یَدِہِ عَامَّۃِ خِلَافَتِہٖ، حَتّٰی سَقَطَ مِنْہُ فِی بِئْرِ أَرِیْسَ .فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَمْ یُنْکِرْ عَلَی خَالِدِ بْنِ سَعِیْدٍ ، لُبْسَ مَا ہُوَ مَنْقُوْشٌ بِالْعَرَبِیَّۃِ .
٦٦٥٤: عمرو بن یحییٰ نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ عمرو بن سعد اپنے بھائی کے ساتھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے ہاتھ میں ایک چھلا دیکھا آپ نے فرمایا یہ چھلا جو تمہارے ہاتھ میں ہے یہ کیسا ہے۔ تو انھوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چھلا ہے آپ نے فرمایا اس کا نقش کیا ہے ؟ اس نے کہا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا مجھے دکھاؤ۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مہر کے لیے استعمال فرماتے تھے۔ جب آپ کی وفات ہوئی تو وہ آپ کے دست اقدس میں تھی۔ پھر اس کو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لیا وہ ان کے ہاتھ میں رہی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے لے لیا۔ پس وہ ان کے ہاتھ میں رہی۔ پھر اس کو حضرت عثمان (رض) نے لے لیا وہ زمانہ خلافت میں ان کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ بیرا ریس میں ان کے ہاتھ سے گر پڑی۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کہ آپ نے خالد بن سعید کو ہاتھ میں عربی نقش والی انگوٹھی سے منع نہیں فرمایا۔