۶۶۵۷: حَدَّثَنَا عَلِیٌّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : کَانَ نَقْشُ خَاتَمِ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ .فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَخُلَفَاؤُہُ الرَّاشِدُوْنَ الْمَہْدِیُّوْنَ ، قَدْ نَقَشُوْا عَلَی خَوَاتِیْمِہِمُ الْعَرَبِیَّۃَ .فَدَلَّ مَا فَعَلُوْا مِنْ ذٰلِکَ ، عَلٰی أَنَّہٗ غَیْرُ مَحْظُوْرٍ عَلَیْہِمْ ، وَأَنَّہٗ اِنَّمَا أُرِیْدَ بِالنَّہْیِ ، أَنْ لَا یُنْقَشَ عَلَی خَاتَمِ الْاِمَامِ ؛ لِئَلَّا یَفْتَعِلَ فِیْمَا بِیَدِہِ مِنَ الْأَمْوَالِ ، الَّتِیْ لِلْمُسْلِمِیْنَ .أَلَا تَرَی أَنَّ عُمَرَ قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ النَّہْیَ عَنْ ذٰلِکَ ، ثُمَّ قَدْ لَبِسَ ہُوَ مِنْ بَعْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا ہُوَ مَنْقُوْشٌ بِالْعَرَبِیَّۃِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا کُرِہَ مِنَ الْعَرَبِیَّۃِ ، ہُوَ الْعَرَبِیَّۃُ الْمَوْضُوْعَۃُ عَلَی خَاتَمِ اِمَامِ الْمُسْلِمِیْنَ خَاصَّۃً ، لَا غَیْرَ ذٰلِکَ .وَأَمَّا مَا رُوِیَ ، مِمَّا کَانَ نَقْشَ خَاتَمِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، وَابْنِ مَسْعُوْدٍ ، وَحُذَیْفَۃَ ، فَاِنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنُوْا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ، وَلَہُمْ أَنْ یَنْقُشُوْا مَکَانَہُمْ عَرَبِیًّا .
٦٦٥٧: قتادہ کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ بن جراح (رض) کی انگوٹھی کا نقش یہ تھا ” الحمد اللہ “ تمام تعریفوں کا حقدار اللہ ہے۔ یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور خلفاء راشدین المہدیین ہیں جنہوں نے اپنی انگوٹھیوں کا نقش عرب میں بنوایا تھا ان کا یہ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ممنوع نہیں اور ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ امام کی انگوٹھی والا نقش نہ بنوایا جائے تاکہ اس کے ذریعہ وہ (جھوٹی مہریں لگا کر) مسلمانوں کے اموال کے سلسلہ میں کوئی کارروائی نہ کرے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہم نے حضرت عمر (رض) سے اس کی ممانعت نقل کی ہے پھر ان کا عمل ذکر کیا کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عربی میں منقوش انگوٹھی خود استعمال فرمائی۔ اس سے بھی یہ دلالت مزید مل گئی کہ جس عربی نقش والی انگوٹھی کو انھوں نے ناپسند کیا وہ امام و مقتدا والی ہے۔ اس کے علاوہ کا یہ حکم نہیں۔ اب رہی وہ روایات جو حضرت نعمان بن مقرن ‘ ابن مسعود ‘ حذیفہ (رض) کی سند سے منقول ہیں تو ممکن ہے کہ انھوں نے اس طرح کیا اور وہ اس کی بجائے عربی میں بھی نقش بنوا سکتے تھے۔ (یہ بھی ممکن ہے کہ سنداً یہ روایات کمزور ہوں)