۶۶۵۹: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ ، قَالَ : ثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَیَّاشُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الْہَیْثَمِ بْنِ شُفَی الْحَجَرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِیْ رَیْحَانَۃَ ، قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبُوْسِ الْخَاتَمِ اِلَّا لِذِیْ سُلْطَانٍ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی کَرَاہَۃِ لُبْسِ الْخَاتَمِ اِلَّا لِذِیْ سُلْطَانٍ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِلُبْسِہِ لِسَائِرِ النَّاسِ ، مِنْ سُلْطَانٍ وَغَیْرِہٖ، بَأْسًا .وَکَانَ مِنْ حُجَّتِہِمْ فِیْ ذٰلِکَ ، الْحَدِیْثُ الَّذِی قَدْ رَوَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِی الْبَابِ الَّذِی قَبْلَ ہٰذَا الْبَابِ ، أَنَّہٗ أَلْقَی خَاتَمَہٗ، فَأَلْقَی النَّاسُ خَوَاتِیْمَہُمْ .فَقَدْ دَلَّ ہٰذَا عَلٰی أَنَّ الْعَامَّۃَ ، قَدْ کَانَتْ تَلْبَسُ الْخَوَاتِیْمَ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ .فَکَیْفَ تَحْتَجُّ بِہٰذَا وَہُوَ مَنْسُوْخٌ ؟ .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّ الَّذِی احْتَجَجْنَا بِہٖ مِنْہٗ، لَیْسَ بِمَنْسُوْخٍ ، وَاِنَّمَا الْمَنْسُوْخُ ، تَرْکُ لُبْسِ الْخَاتَمِ مِنَ الذَّہَبِ ، لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلِغَیْرِہِ مِنْ أُمَّتِہٖ۔وَقَبْلَ ذٰلِکَ فَقَدْ کَانَ ہُوَ ، وَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ سَوَائً .فَلَمَّا نُسِخَ لُبْسُ خَوَاتِیْمِ الذَّہَبِ ، کَانَ الْحَکَمُ مُتَقَدِّمًا فِیْ لُبْسِہِ وَلُبْسِہِمُ الْخَوَاتِیْمَ ، سَوَائً ، وَکَأَنَّ النَّسْخَ لَمْ یَمْنَعْہُ، ہُوَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ لُبْسِ خَاتَمِ الْفِضَّۃِ ، فَکَذٰلِکَ أَیْضًا لَا یَمْنَعُہُمْ مِنْ لُبْسِ الْخَوَاتِیْمِ مِنْ فِضَّۃٍ .فَہٰذَا الَّذِی أَرَدْنَا مِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِمَّنْ لَمْ یَکُنْ لَہُمْ سُلْطَانٌ ، أَنَّہُمْ کَانُوْا یَلْبَسُوْنَ الْخَوَاتِیْمَ .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٦٦٥٩: ابو عامر نے حضرت ابو ریحانہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکام کے علاوہ دوسروں کو انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : ایک جماعت علماء کہتی ہے کہ حاکم کے علاوہ کسی دوسرے کو انگوٹھی کا استعمال مکروہ ہے انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ تمام لوگ خواہ وہ صاحب اقتدار ہوں یا غیر ‘ انگوٹھی کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کی دلیل وہ روایت ہے کہ جس میں مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگوٹھی پھینک دی تو دوسرے لوگوں نے بھی پھینک دیں اس سے یہ خود دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں عام لوگ بھی انگوٹھیاں پہنتے تھے۔ اگر کوئی کہے کہ آپ منسوخ روایت سے استدلال کر رہے ہیں۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا جس بات سے ہم نے اس روایت سے استدلال کیا ہے وہ تو منسوخ نہیں ہے۔ منسوخ سونے کی انگوٹھی کا آپ اور آپ کی امت کے لیے پہننا ہے (مطلق انگوٹھی پہننا تو مخالف کو بھی مسلم ہے) اور اس اعلان نسخ سے پہلے پہننے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے لوگ سب شریک تھے پھر سونے کی انگوٹھی منسوخ ہوئی مگر آپ کے اور دوسرے لوگوں کے لیے انگوٹھی کا حکم تو اسی طرح باقی رہا۔ اس نسخ نے آپ کو چاندی کی انگوٹھی سے نہ روکا۔ تو اسی طرح دوسرے لوگوں کے لیے بھی رکاوٹ نہ ہوگی اس روایت سے ہمارا استدلال صرف اتنا ہی ہے۔ ورنہ تو ان لوگوں سے اس کا پہننا ثابت ہے جو حاکم و بادشاہ نہ تھے۔ روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : ابو داؤد فی اللباس باب ٨‘ نسائی فی الزینہ باب ٢٠‘ مسند احمد ٤‘ ١٣٤؍١٣٥۔
حاکم کے علاوہ اور کسی کو مہر والی انگوٹھی پہننا کیسا ہے۔
نمبر 1: علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ حاکم کے علاوہ اور کسی کو مہر والی انگوٹھی کا استعمال درست نہیں۔
فریق ثانی : انگوٹھی کے پہننے میں حاکم و غیر حاکم دونوں برابر ہیں جس حد تک مباح ہے ہر ایک کو جائز ہے۔