hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6673

.

الطحاوي

6673
Al Tahawi
۶۶۷۰: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ، مِثْلَہٗ۔حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، قَالَ : ثَنَا مَنْصُوْرٌ ، عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِبَاحَۃُ الْبَوْلِ قَائِمًا ، وَہٰذَا أَوْلَی مِمَّا ذَکَرْنَا قَبْلَہٗ عَنْ عَائِشَۃَ ؛ لِأَنَّ حَدِیْثَ عَائِشَۃَ اِنَّمَا فِیْہِ مَنْ حَدَّثَکَ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ، بَالَ قَائِمًا بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ ، فَلَا تُصَدِّقْہُ .أَیْ : أَنَّ الْقُرْآنَ ، لَمَّا نُزِلَ عَلَیْہِ أُمِرَ فِیْہِ بِالطَّہَارَۃِ ، وَاجْتِنَابِ النَّجَاسَۃِ ، وَالتَّحَرُّزِ مِنْہَا .فَلَمَّا رَأَتْ عَائِشَۃُ ذٰلِکَ ، وَعَلِمَتْ تَعْظِیْمَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ لِأَمْرِ اللّٰہِ، وَکَانَ الْأَغْلَبُ عِنْدَہَا ، أَنَّ مَنْ بَالَ قَائِمًا ، لَا یَکَادُ یَسْلَمُ مِنْ اِصَابَۃِ الْبَوْلِ ثِیَابَہُ وَبَدَنَہٗ، قَالَتْ ذٰلِکَ ، وَلَیْسَ فِیْہِ حِکَایَۃٌ مِنْہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوَافِقُ ذٰلِکَ .ثُمَّ جَائَ حُذَیْفَۃُ فَأَخْبَرَ أَنَّہٗ رَأَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ ، بَعْدَ نُزُوْلِ الْقُرْآنِ عَلَیْہٖ، یَبُوْلُ قَائِمًا .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ اِبَاحَۃُ الْبَوْلِ قَائِمًا ، اِذَا کَانَ الْبَائِلُ فِیْ ذٰلِکَ یَأْمَنُ مِنَ النَّجَاسَۃِ عَلَی بَدَنِہِ وَثِیَابِہٖ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ فِیْ ہٰذَا ، مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَہَبْنَا اِلَیْہِ مِنْ مَعْنَیْ حَدِیْثِہَا الَّذِیْ ذٰکَرْنَا .
٦٦٧٠: ابو عوانہ نے سلیمان سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے پھر انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اباحت کا ثبوت ہے اور یہ روایات اس روایت سے اولیٰ ہیں جو ہم نے پہلے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کی ہے کیونکہ حدیث عائشہ (رض) میں یہ مذکورے کہ جو تمہیں یہ بیان کرے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول قرآن کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس کی مت تصدیق کرو یونی جب قرآن مجید اترا تو اس میں طہارت کا حکم ملا۔ اور نجاست سے پرہیز و گریز کا حکم دیا گیا جب کہ حضرت عائشہ (رض) یہ دیکھا اور جاتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی بہت تعظیم فرماتے تو عائشہ (رض) کے ہاں اغلب بات یہی ہے کہ جس نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا وہ کپڑے اور بدن کو پیشاب لگنے سے بچ نہیں سکتا تو اس بات کے پیش نظر انھوں نے یہ بات فرمائی حالانکہ روایت میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی ایسی بات منقول نہیں ہے جو اس کی تصدیق کرے۔ پھر دوسری طرف حضرت حذیفہ نے خود جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ میں نزول قرآن کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا ہے پس اس سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اباحت کا ثبوت ملتا ہے بشرطیکہ کپڑے اور بدن پر نجاست نہ لگے۔
MU اس روایت میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اباحت کا ثبوت ہے اور یہ روایات اس روایت سے اولیٰ ہیں جو ہم نے پہلے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کی ہے کیونکہ حدیث عائشہ (رض) میں یہ مذکورے کہ جو تمہیں یہ بیان کرے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول قرآن کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس کی مت تصدیق کرو یونی جب قرآن مجید اترا تو اس میں طہارت کا حکم ملا۔ اور نجاست سے پرہیز و گریز کا حکم دیا گیا جب کہ حضرت عائشہ (رض) یہ دیکھا اور جاتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی بہت تعظیم فرماتے تو عائشہ (رض) کے ہاں اغلب بات یہی ہے کہ جس نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا وہ کپڑے اور بدن کو پیشاب لگنے سے بچ نہیں سکتا تو اس بات کے پیش نظر انھوں نے یہ بات فرمائی حالانکہ روایت میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی ایسی بات منقول نہیں ہے جو اس کی تصدیق کرے۔
پھر دوسری طرف حضرت حذیفہ نے خود جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ میں نزول قرآن مجدی کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا ہے پس اس سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اباحت کا ثبوت ملتا ہے بشرطیکہ کپڑے اور بدن پر نجاست نہ لگے۔
روایت عائشہ صدیقہ (رض) کا معنی خود ان کی زبان سے :