۶۶۷۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ ، وَقَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہٗ رَأَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبُوْلُ قَائِمًا فَکَذِّبْہٗ، فَاِنِّیْ رَأَیْتُہُ یَبُوْلُ جَالِسًا .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا دَفَعَتْ بِہٖ عَائِشَۃُ رِوَایَۃَ رُؤْیَۃِ مَنْ رَأَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبُوْلُ قَائِمًا ، وَاِنَّمَا رُؤْیَتُہَا اِیَّاہُ یَبُوْلُ جَالِسًا .فَلَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عِنْدَنَا دَلِیْلٌ عَلٰی ذٰلِکَ ؛ لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَبُوْلَ جَالِسًا فِیْ وَقْتٍ، وَیَبُوْلَ قَائِمًا فَقْتٍ آخَرَ ، فَلَمْ تَحْکِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا شَیْئًا یَدُلُّ عَلٰی کَرَاہِیَۃِ الْبَوْلِ قَائِمًا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہٗ بَالَ قَائِمًا .
٦٦٧١: مقدام بن شریح نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جو شخص تمہیں یہ بیان کرے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے اس نے آپ پر جھوٹ بولا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا۔ اس روایت میں اس بات پر دلالت ہے جس کی حضرت عائشہ (رض) تردید کر رہی ہیں کہ جو یہ کہتا ہے کہ میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا ہے جبکہ خود حضرت عائشہ (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا۔ تو اس میں ہمارے ہاں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ آپ نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہیں کیا بلکہ ممکن ہے کہ آپ نے کسی وقت بیٹھ کر اور دوسرے وقت (ضرورۃً ) کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہو۔ تو حضرت عائشہ (رض) نے ایسی کوئی بات نقل نہیں کی جو کھڑے ہو کر پیشاب کی کراہت (تحریمی) پر دلالت کرتی ہو۔
دیگر صحابہ کرام ] سے اس کا ثبوت :