۶۶۷۸ : مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ ثِنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَا بُلْت قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عُمَرُ لَمْ یَبُلْ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمَ ، حَتّٰی قَالَ ہٰذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ بَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ قَائِمًا ، عَلٰی مَا رَوَاہٗ عَنْہُ زَیْدُ بْنُ وَہْبٍ .فَفِیْ ذٰلِکَ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ یَرَی بِالْبَوْلِ قَائِمًا بَأْسًا .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا ، مَا قَدْ رَوَیْنَاہٗ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، مِنْ بَوْلِہِ قَائِمًا .وَقَدْ حَدَّثَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِمَا قَدْ ذَکَرْنَا .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی رُجُوْعِ عُمَرَ ، عَنْ کَرَاہِیَۃِ الْبَوْلِ قَائِمًا ، اِذَا کَانَ ذٰلِکَ ، لَمَا رَوَاہٗ عَنْہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ .وَلَمْ یَکُنْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ، یَتْرُکُ مَا سَمِعَہُ مِنْ عُمَرَ ، اِلَّا اِلٰی مَا ہُوَ أَوْلَی عِنْدَہُ مِنْ ذٰلِکَ .
٦٦٧٨: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے جب سے میں اسلام لایا میں نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہیں کیا۔ یہ عین ممکن ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اسلام لانے کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ یہ بات کہی پھر اس کے بعد کیا ہو جیسا کہ زید بن وہب نے روایت کی ہے۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ وہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے اور اس پر وہ بات بھی دلالت کرتی ہے جو خود ابن عمر (رض) سے اس باب میں ان کے کھڑے ہو کر پیشاب کے متعلق نقل ہوئی ہے اور عمر (رض) کو یہ واقعہ پیش آیا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ اس سے حضرت عمر (رض) کا رجوع بھی معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کراہت نہیں۔ جس طرح کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عمر (رض) سے جو بات سنی تھی اس کو اسی لیے چھوڑا کہ اس سے اولیٰ بات مل گئی۔
تخریج : ترمذی فی الطہارۃ باب ٨‘ ابن ماجہ فی الطہارۃ باب ١٤۔
جواب : یہ عین ممکن ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اسلام لانے کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ یہ بات کہی پھر اس کے بعد کیا ہو جیسا کہ زید بن وہب نے روایت کی ہے۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ وہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے اور اس پر وہ بات بھی دلالت کرتی ہے جو خود ابن عمر (رض) سے اس باب میں ان کے کھڑے ہو کر پیشاب کے متعلق نقل ہوتی ہے اور عمر (رض) کو یہ واقعہ پیش آیا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ اس سے حضرت عمر (رض) کا رجوع بھی معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کراہت نہیں۔ جس طرح کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عمر (رض) سے جو بات سنی تھی اس کو اسی لیے چھوڑا کہ اس سے اولیٰ بات مل گئی۔