۶۶۸۰ : فَحَدَّثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ : فِیْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ الْقَسَمَ یَمِیْنٌ ؛ لِأَنَّ الْاِسْتِثْنَائَ لَا یَکُوْنُ اِلَّا فِی الْیَمِیْنِ .وَاِذَا کَانَتْ یَمِیْنًا ، کَانَتْ مُبَاحَۃً ، فِیْمَا سَائِرُ الْأَیْمَانِ فِیْہِ مُبَاحَۃٌ ، وَمَکْرُوْہَۃً فِیْمَا سَائِرُ الْأَیْمَانِ فِیْہِ مَکْرُوْہَۃٌ .وَلَا حُجَّۃَ عِنْدَنَا ، عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ ، فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، الَّذِیْ ذٰکَرْنَا ، فَاِنَّہٗ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ الَّذِیْ کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْقَسَمِ ، لِأَبِیْ بَکْرٍ مِنْ أَجْلِہٖ ، ہُوَ أَنَّ التَّعْبِیْرَ الَّذِیْ صَوَّبَہٗ فِیْ بَعْضِہٖ ، وَخَطَّأَہٗ فِیْ بَعْضِہٖ ، لَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ مِنْہُ مِنْ جِہَۃِ الْوَحْیِ ، وَلٰـکِنْ مِنْ جِہَۃِ مَا یُعَبِّرُ لَہٗ الرُّؤْیَا کَمَا نَہَی أَنْ تُوْطَأَ الْحَوَامِلُ ، عَلَی الْاِشْفَاقِ مِنْہُ أَنْ یُضِرَّ ذٰلِکَ بِأَوْلَادِہِمْ .فَلَمَّا بَلَغَہٗ أَنَّ فَارِسَ وَالرُّوْمَ یَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ فَلَا یُضِرُّ بِأَوْلَادِہِمْ ، أَطْلَقَ مَا کَانَ حَظَرَ مِنْ ذٰلِکَ .وَکَمَا قَالَ فِیْ تَلْقِیْحِ النَّخْلِ مَا أَظُنُّ أَنَّ ذٰلِکَ یُغْنِی شَیْئًا فَتَرَکُوْھُ ، وَنَزَعُوْا عَنْہُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِنَّمَا ہُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتُہٗ، اِنْ کَانَ یُغْنِیْ شَیْئًا فَلْیَصْنَعُوْھُ ، فَاِنَّمَا أَنَا بِشْرٌ مِثْلُکُمْ ، وَاِنَّمَا ہُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتُہٗ، وَالظَّنُّ یُخْطِئُ وَیُصِیْبُ ، وَلٰـکِنْ مَا قُلْتُ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ۔
٦٦٨٠: محمد بن حسن کہتے ہیں کہ اس آیت میں دلیل ہے کہ قسم یمین ہے کیونکہ استثنیٰ یمین ہی میں ہوتا ہے جب اس کا یمین ہونا ثابت ہوگیا تو پھر ان سب مقامات پر اس کا جواز ثابت ہوا جہاں یمین درست ہے اور جن مقامات پر یمین مکروہ ہے وہاں یہ بھی مکروہ ہے ہمارے نزدیک فریق ثانی کے خلاف ابن عباس کی روایت میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ کہنا ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کو ابوبکر صدیق کے لیے مکروہ قرار دیا ہو کہ وہ تعبیر جس کو بعض کو آپ نے درست فرمایا اور بعض کو خطا قرار دیا تو وحی کے اعتبار سے نہیں تھی بلکہ علم تعبیر کے لحاظ سے تھی جیسا کہ حاملہ عورت سے وطی کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر کہ اولاد کو نقصان پہنچے پھر آپ کو یہ اطلاع ملی کہ فارس اور روم کے لوگ اس طرح کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی اولاد کو نقصان نہیں دیتی تو جس سے ڈرایا تھا اس کی آزادی دے دی جس طرح کہ تعبیر نحل یعنی کھجوروں کی پیوندکاری کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں اس کام کا کچھ بھی فائدہ نہیں تو صحابہ کرام نے اس کو چھوڑ دیا اور اس سے نقصان ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم جیسا انسان ہوں اور یہ گمان ہے جو میں نے کیا اور گمان کبھی درست نکلتا ہے اور کبھی خطا لیکن جو میں اس طرح کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے تو میں ہرگز اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بول سکتا اسی طرح کی روایت ابو داؤد نے اقضیہ باب ٧ میں ذکر کی ہے۔