۶۶۸۱ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ ، قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِیْہٖ.فَأَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ ، مَا قَالَہٗ مِنْ جِہَۃِ الظَّنِّ ، فَہُوَ کَسَائِرِ الْبَشَرِ فِیْ ظُنُوْنِہِمْ ، وَأَنَّ الَّذِیْ یَقُوْلُہٗ عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَہُوَ الَّذِیْ لَا یَجُوْزُ خِلَافُہُ. وَکَانَتِ الرُّؤْیَا اِنَّمَا تُعَبَّرُ بِالظَّنِّ وَالتَّحَرِّی ، وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ أَنَّہٗ نَاجٍ مِنْہُمَا۔ فَلَمَّا کَانَ التَّعْبِیْرُ مِنْ ہٰذِہِ الْجِہَۃِ الَّتِیْ لَا حَقِیْقَۃَ فِیْہَا ، کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَبِیْ بَکْرٍ ، أَنْ یُقْسِمَ عَلَیْہِ ؛ لِیُخْبِرَہٗ بِمَا یَظُنُّہُ صَوَابًا، عَلٰی أَنَّہٗ عِنْدَہُ کَذٰلِکَ ، وَقَدْ یَکُوْنُ فِی الْحَقِیْقَۃِ بِخِلَافِہٖ۔أَلَا تَرَی أَنَّ رَجُلًا لَوْ نَظَرَ فِیْ مَسْأَلَۃٍ مِنَ الْفِقْہِ، وَاجْتَہَدَ ، فَأَدَّاہُ اجْتِہَادُہُ اِلَی شَیْئٍ وَسِعَہُ الْقَوْلُ بِہٖ ، وَرَدُّ مَا خَالَفَہٗ، وَتَخْطِئَۃُ قَائِلِہٖ ، اِذَا کَانَتِ الدَّلَائِلُ الَّتِی بِہَا یُسْتَخْرَجُ الْجَوَابُ فِیْ ذٰلِکَ ، رَافِعَۃً لَہٗ۔وَلَوْ حَلَفَ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ الْجَوَابَ صَوَابٌ ، کَانَ مُخْطِئًا ؛ لِأَنَّہٗ لَمْ یُکَلَّفْ اِصَابَۃَ الصَّوَابِ ، فَیَکُوْنُ مَا قَالَہٗ، ہُوَ الصَّوَابَ ، وَلٰـکِنَّہٗ کُلِّفَ الْاِجْتِہَادَ .وَقَدْ یُؤَدِّیْہِ الْاِجْتِہَادُ اِلَی الصَّوَابِ وَاِلٰی غَیْرِ الصَّوَابِ ، فَمِنْ ہٰذِہِ الْجِہَۃِ ، کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَبِیْ بَکْرٍ ، الْحَلِفَ عَلَیْہِ ؛ لِیُخْبِرَہٗ بِصَوَابِہٖ مَا ہُوَ ، لَا مِنْ جِہَۃِ کَرَاہِیَۃِ الْقَسَمِ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ .
٦٦٨١: سماک نے موسیٰ بن طلحہ اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں یہ بتلا دیا کہ جو کچھ میں گمان کی جانب سے کہوں تو وہ گمان میں عام انسانوں کی طرح ہے اور جو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمائیں تو وہ وحی ہے جس کی مخالفت جائز نہیں اور خواب کی تعبیر تو گمان اور تحری سے کی جاتی ہے اور یہ بات محمد ابن سیرین نے اس آیت ” وقال للذی ظن انہ ناج منہما “ (یوسف ٤٢) کو دلیل بنا کر فرمائی ہے۔ جب کہ تعبیر ایسی جہت سے ہے جس میں قطعی بات نہیں ہوتی تو اسی لحاظ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدیق اکبر کے اس پر قسم اٹھانے کو ناپسند کیا کہ آپ نے جس کو درست قرار دیا ہے اس کی ضرور اطلاع دیں اس طور پر کہ آپ کے ہاں اسی طرح ہے اور ہوسکتا ہے کہ حقیقت میں اس کے خلاف ہو کیا تم دیکھتے ہو کہ ایک آدمی نے فقہ کے ایک مسئلے کے بارے میں غور کیا اور پھر اجتہاد کیا اس کے اجتہاد نے اس کو ایک چیز تک پہنچایا تو اس کو اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اپنے اجتہاد کے مطابق بات کہے اور اس کے خلاف قول کو رد کر دے اور اس کے کہنے والے کو غلط قرار دے جبکہ دلائل جن کے ذریعے اس نے یہ مسئلہ نکالا ہے وہ مخالف کے قول کی تردید کر رہے ہیں اگر یہ آدمی اس جواب کے صحیح ہونے پر قسم اٹھائے تو وہ غلطی پر ہوگا اس لیے کہ اس کو صحیح تک پہنچنے کا مکلف نہیں بنایا گیا پس جو کچھ اس نے کہا ہے وہی درست ہوگا کیونکہ وہ اجتہاد کا مکلف بنایا گیا ہے اور یہ اجتہاد بسا اوقات اس کو درست اور بسا اوقات غیر درست کی طرف لے جائے گا پس اسی جہت کے لحاظ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کے اس پر حلف اٹھانے کو ناپسند کیا اس لحاظ سے نہیں کہ آپ نے قسم کو ناپسند کیا اور ہم نے جو بات کہی ہے اس پر یہ روایات دلالت کرتی ہیں۔