hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6689

.

الطحاوي

6689
Al Tahawi
۶۶۸۶ : وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، قَالَ : ثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ، مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہٗ ۔ فَلَوْ کَانَ الْقَسَمُ مَکْرُوْہًا ، لَکَانَ قَائِلُہٗ عَاصِیًا ، وَلَمَا أَبَرَّ اللّٰہُ قَسَمَ مَنْ عَصَاہُ .وَقَدْ رَوَیْنَا فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ہٰذَا ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّہٗ قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَ رِیحَ ثُوْمٍ .فَلَمَّا فَرَغَ مِنِ الصَّلَاۃِ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَلَا یَقْرَبْنَا فِیْ مَسْجِدِنَا حَتّٰی یَذْہَبَ رِیحُہَا .فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَمَا أَعْطَیْتَنِیْ یَدَکَ ، فَأَعْطَانِیْہَا ، فَأَرَیْتُہٗ جَبَائِرَ عَلٰی صَدْرِیْ. فَقَالَ : اِنَّ لَکَ عُذْرًا وَلَمْ یُنْکِرْ عَلَیْہِ اِقْسَامَہٗ عَلَیْہِ .
٦٦٨٦: حمیدالطویل نے حضرت انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کردیتے ہیں۔ اگر قسم مکروہ ہوتی تو اس کا کہنے والا ہی گناہ گار تھا اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا نہ کرتے ہم پہلے ذکر کر آئے کہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی آپ کو لہسن کی بو محسوس ہوئی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا جو آدمی اس پودے کو کھائے تو وہ ہماری مسجد کے اس وقت تک قریب نہ آئے جب تک اس کی بو دور نہ ہو چنانچہ میں آپ کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے اپنا ہاتھ پکڑائیں آپ نے اپنا ہاتھ پکڑا دیا تو میں نے آپ کو اپنے سینے کے زخم دکھائے تو آپ نے فرمایا تم معذور ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغیرہ کی قسم اٹھانے پر اعتراض نہیں فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الصلح باب ٨‘ والایمان باب ٩‘ مسلم فی القسامہ حدیث ٢٤‘ ابو داؤد فی الدیات باب ٢٨‘ ترمذی فی جہنم باب ١٣‘ مسند احمد ٣؍١٢٨‘ ٤؍٣٠٦۔