۶۶۹۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دَاوٗدَ ، قَالَا : أَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الطَّالَقَانِیُّ ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْجَارُوْدِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا۔
٦٦٩٠: ابو مسلم نے حضرت جارود (رض) سے روایت کی اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے کھڑے ہو کر پینے پر ڈانٹا۔
تخریج : مسلم فی الاشربہ ١١٢؍١١٣‘ ترمذی فی الاشربہ باب ١١‘ ابن ماجہ فی الاشربہ باب ١٢‘ دارمی فی الاشربہ باب ٢٤‘ مسند احمد ٣‘ ٥٤؍١٩٩‘ ٢٧٧؍٢٠١١۔
خلاصہ الزام :
کھڑے ہو کر پانی پینے کو علماء کی ایک جماعت نے مکروہ قرار دیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : کھڑے ہو کر پانی پینے میں گناہ نہیں ضرورت کے لیے پی سکتے ہیں البتہ آداب کے خلاف ہے۔