hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6717

.

الطحاوي

6717
Al Tahawi
۶۷۱۴ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ قِرْبَۃٍ مُعَلَّقَۃٍ ، وَہُوَ قَائِمٌ۔ فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ اِبَاحَۃُ الشُّرْبِ قَائِمًا وَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا اِذَا رُوِیَ حَدِیْثَانِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاحْتَمَلَا الْاِتِّفَاقَ ، وَاحْتَمَلَا التَّضَادَّ أَنْ نَحْمِلَہُمَا عَلَی الْاِتِّفَاقِ لَا عَلَی التَّضَادِّ ، وَکَانَ مَا رَوَیْنَا فِیْ ہٰذَا الْفَصْلِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِبَاحَۃَ الشُّرْبِ قَائِمًا ، وَفِیْمَا رَوَیْنَا عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَہٗ، النَّہْیَ عَنْ ذٰلِکَ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ النَّہْیُ لَمْ یُرَدْ بِہٖ ہٰذِہِ الْاِبَاحَۃُ وَلٰـکِنْ أُرِیْدَ بِہٖ مَعْنًی آخَرُ ، فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ .
٦٧١٤: حمید نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے ہونے کی حالت میں پانی نوش فرمایا۔ ان روایات سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا جواز معلوم ہوتا ہے ہمارے لیے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جب دو قسم کی روایات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وارد ہوں اور ان میں تضاد اور موافقت دونوں احتمال موجود ہوں تو ہمیں تضاد کی بجائے موافقت پر محمول کرنا چاہیے چنانچہ اس فصل میں مروی روایات سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے اور اس سے پچھلی فصل میں ممانعت ثابت ہوتی ہے پس اب اس میں یہ احتمال پیدا ہوا کہ جس میں ممانعت ہے اس میں یہ اباحت مراد نہیں بلکہ اور کوئی دوسرا مفہوم مراد ہے غور کرنے سے یہ روایت سامنے آئی۔