hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6718

.

الطحاوي

6718
Al Tahawi
۶۷۱۵ : فَاِذَا فَہْدٌقَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ : ثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : اِنَّمَا أَکْرَہَ الشُّرْبَ قَائِمًا ؛ لِأَنَّہٗ دَائٌ .فَأَخْبَرَ الشَّعْبِیُّ فِیْ ہٰذَا الْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ النَّہْیُ ، وَأَنَّہٗ لِمَا یَخَافُ مِنْہُ مِنْ الضَّرَرِ وَحُدُوْثِ الدَّائِ لَا غَیْرَ ذٰلِکَ .فَأَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ النَّہْیِ الْاِشْفَاقَ عَلٰی أُمَّتِہٖ وَأَمْرُہٗ اِیَّاہُمْ بِمَا فِیْہِ صَلَاحُہُمْ ، فِیْ دِیْنِہِمْ وَدُنْیَاہُمْ ، کَمَا قَدْ قَالَ لَہُمْ أَمَّا أَنَا ، فَلَا آکُلُ مُتَّکِئًا.
٦٧١٥: شعبی کہتے ہیں کھڑے ہو کر پینا اس لیے مکروہ ہے کیونکہ اس سے بیماری کا خطرہ ہے۔ اس میں شعبی نے وہ معنی بتلایا جس کی وجہ سے ممانعت ہے کہ اس سے نقصان اور بیماری کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت پر شفقت کرتے ہوئے ممانعت فرمائی اور ان کو ایسی بات کا حکم دیا جس میں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی تھی جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روایت ابو جحیفہ میں فرمایا اما انا فلا اکل متکئا ۔
حاصل : اس میں شعبی نے وہ معنی بتلایا جس کی وجہ سے ممانعت ہے کہ اس سے نقصان اور بیماری کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت پر شفقت کرتے ہوئے ممانعت فرمائی اور ان کو ایسی بات کا حکم دیا جس میں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی تھی جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روایت ابو جحیفہ میں فرمایا اما انا فلا اکل متکئا ۔