۶۷۲۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ ، قَالَ : ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ قَالَ : قَالَ الشَّعْبِیُّ اِنَّمَا کَرِہَ الْأَکْلَ مُتَّکِئًا مَخَافَۃَ أَنْ تَعْظُمَ بُطُوْنُہُمْ۔ فَأَخْبَرَ الشَّعْبِیُّ بِالْمَعْنَی الَّذِیْ کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِہِ الْأَکْلَ مُتَّکِئًا ، وَأَنَّہٗ اِنَّمَا ہُوَ لِمَا یَحْدُثُ عَنْہُ، مِنْ عِظَمِ الْبَطْنِ .فَکَذٰلِکَ مَا رُوِیَ عَنْہُ مِنَ النَّہْیِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ، اِنَّمَا ہُوَ لِمَعْنًیْ یَکُوْنُ مِنْ ذٰلِکَ ، کَرِہَہٗ مِنْ أَجْلِہٖ، لَا غَیْرَ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ہٰذَا أَیْضًا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو .
٦٧٢١: جریر کہتے ہیں کہ شعبی (رح) نے فرمایا ٹیک لگا کر کھانا مکروہ اس لیے قرار دیا کہ کہیں اس سے ان کے پیٹ نہ بڑے ہوجائیں۔ امام شعبی نے ٹیک لگا کر کھانے کی ممانعت کی وجہ بتادی کہ اس سے پیٹ بڑھ جاتا ہے بالکل اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت اور کراہت بھی اسی لیے ہے کہ وہ نقصان کا باعث ہے نہ کہ کچھ اور عبداللہ ابن عمر (رض) سے بھی ٹیک لگا کر کھانے کے سلسلے میں کراہت کی روایات وارد ہیں۔