۶۷۴۱ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ : کَانَ الْأَشْعَثُ ، وَجَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، وَکَعْبٌ ، قُعُوْدًا ، فَرَفَعَ الْأَشْعَثُ اِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْأُخْرٰی وَہُوَ قَاعِدٌ .فَقَالَ لَہٗ کَعْبُ بْنُ عُجْرَۃَ : ضُمَّہَا ، فَاِنَّہٗ لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِذٰلِکَ بَأْسًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦٧٤١: ابو وائل کہتے ہیں کہ اشعث ‘ جریر بن عبداللہ اور کعب بیٹھے تھے اشعث نے ایک پاؤں کو دوسرے پر بیٹھنے کی حالت میں بلند کیا۔ تو ان کو حضرت کعب بن عجرہ (رض) نے کہا ان کو ساتھ ملاؤ یہ کسی انسان کے لائق نہیں۔ فریق ثانی نے فریق اوّل کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا انھوں نے اس سلسلہ میں ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : انھوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا انھوں نے اس سلسلہ میں ان روایات سے استدلال کیا ہے۔