۶۷۵۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَاعِدًا ، قَدْ وَضَعَ اِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْأُخْرٰی .فَقَدْ رَوَیْنَا عَنْ ہٰؤُلَائِ الْجِلَّۃِ ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہٰذَا مِمَّا لَا یَصِلُ اِلٰی تَبْیِینِہٖ، مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ فَنَسْتَعْمِلَ فِیْہٖ، مَا اسْتَعْمَلْنَاہُ فِیْ غَیْرِہِ مِنْ أَبْوَابِ ہٰذَا الْکِتَابِ .وَلٰـکِنْ لِمَا رَوَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا وَصَفْنَا فِی الْفَصْلِ الْمُتَقَدِّمِ ، وَرُوِیَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ أَنَّہٗ قَالَ : اِنَّہٗ لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ فَکَانَ مَعْنٰی ہٰذَا ، عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ ، أَنَّہَا لَا تَصْلُحُ لِبَشَرٍ لِنَہْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہَا ، ؛ لِأَنَّہٗ لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ یُخَالِفَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ثُمَّ قَدْ جَائَ مَا ذَکَرْنَاہُ فِی الْفَصْلِ الثَّانِیْ مِنْ اِبَاحَتِہَا ، بِاسْتِعْمَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہَا .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ أَحَدُ الْأَمْرَیْنِ قَدْ نَسَخَ الْآخَرَ ، فَلَمَّا وَجَدْنَا أَبَا بَکْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، وَہُمُ الْخُلَفَائُ الرَّاشِدُوْنَ الْمَہْدِیُّوْنَ ، عَلٰی قُرْبِہِمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعِلْمِہِمْ بِأَمْرِہٖ، قَدْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ بَعْدَہٗ، بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِہٖ جَمِیْعًا ، وَفِیْہِمْ الَّذِیْ حَدَّثَ بِالْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکَرَاہَۃِ ، فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ أَحَدٌ مِنْہُمْ ، ثُمَّ فَعَلَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ، وَابْنُ عُمَرَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، فَلَمْ یُنْکِرْ عَلَیْہِمْ مُنْکِرٌ .ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ ہٰذَا ، ہُوَ مَا عَلَیْہِ أَہْلُ الْعِلْمِ ، مِنْ ہٰذَیْنِ الْخَبَرَیْنِ الْمَرْفُوْعَیْنِ ، وَبَطَلَ بِذٰلِکَ مَا خَالَفَہٗ، لِمَا ذَکَرْنَا وَبَیَّنَّا .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی غَیْرِ ہٰذَا الْمَعْنَی .
٦٧٥٥: عمران بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) کو اس حالت میں بیٹھے دیکھا کہ انھوں نے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا ہوا ہے۔ یہ روایات ہم نے اجلہ صحابہ کرام (رض) سے کی ہیں۔ جس کی وضاحت قیاس و نظر سے ہو سکے تاکہ ہم اس قیاس کو دوسرے ابواب کی طرح یہاں بھی استعمال کریں لیکن جب ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ روایات نقل کرچکے جو کہ شروع باب میں آئیں اور حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے روایت وارد ہوئی کہ کسی شخص کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت جائز نہیں تو ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے۔ واللہ اعلم۔ کہ کسی شخص کو اس پر عمل اس لیے جائز نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت جائز نہیں۔ دوسری فصل میں وہ روایات لائی گئیں جن سے اس عمل کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود یہ عمل کیا۔ اب ان دونوں روایات میں اس بات کا احتمال ہے کہ یہ ایک دوسری کے لیے ناسخ ہوں۔ پس جب حضرت ابوبکر و عمرو عثمان (رض) جو خلفاء راشدین اور ہادی مہدی ہیں ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرب رہا اور وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوسروں سے زیادہ جاننے والے ہیں انھوں نے تمام صحابہ کرام کی موجودگی میں یہ عمل کیا اور ان میں وہ حضرات بھی ہیں جنہوں نے کراہت سے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ روایات نقل کی ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ پھر حضرت ابن مسعود ‘ ابن عمر ‘ اسامہ بن زید ‘ انس بن مالک (رض) نے یہ عمل کیا اور ان پر بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان دو مرفوع روایات میں سے اس روایت پر اہل علم کا عمل ہے۔ اس کے ساتھ وہ باطل ہوا جو اس کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور تفصیل سے بیان کیا۔ اور حضرت حسن (رح) سے تو دوسرے معنی پر دلالت کرنے والی روایت بھی مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔