۶۷۵۶ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَیْلِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی ، قَالَ : ثَنَا عَقِیْلٌ قَالَ : قِیْلَ لِلْحَسَنِ : قَدْ کَانَ یُکْرَہُ أَنْ یَضَعَ الرَّجُلُ اِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْأُخْرٰیْ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ : مَا أَخَذُوْا ذٰلِکَ اِلَّا عَنِ الْیَہُوْدِ .فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ مِنْ شَرِیْعَۃِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ ، کَرَاہَۃُ ذٰلِکَ الْفِعْلِ ، فَکَانَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی ذٰلِکَ .فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِاتِّبَاعِ مَا کَانُوْا عَلَیْہٖ، ؛ لِأَنَّ حُکْمَہُ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی شَرِیْعَۃِ النَّبِیِّ الَّذِیْ کَانَ قَبْلَہٗ، حَتّٰی یُحْدِثَ اللّٰہُ لَہٗ شَرِیْعَۃً تَنْسَخُ بِشَرِیْعَتِہٖ .ثُمَّ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ ، وَبِاِبَاحَۃِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ ، لَمَّا أَبَاحَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہٗ، مَا قَدْ کَانَ حَظَرَہٗ، عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَہٗ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ خِلَافُ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٦٧٥٦: عقیل کہتے ہیں کہ حسن (رح) کو کہا گیا کہ یہ بات مکروہ قرار دی جاتی تھی کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے تو حسن کہنے لگے انھوں نے یہ بات یہود سے اخذ کی ہے۔ ممکن ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں یہ کراہت ہو۔ پس اس پر قائم تھے اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے پیغمبر کی شریعت پر چلنے کا حکم تھا جب تک اس کے متعلق کوئی نیا حکم نہ اترے پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فعل کو مباح کردیا اور اس کے خلاف حکم دیا کہ آپ کے لیے اس چیز کو جائز کردیا جو آپ سے پہلے پیغمبر کے لیے جائز نہ تھی۔
حضرت حسن (رح) سے اس کے خلاف قول۔ (ملاحظہ ہو)