۶۷۵۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَعَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَا : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْ مُوْسَی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِیْ مَسْجِدِنَا ، أَوْ فِیْ مَسَاجِدِنَا ، وَفِیْ یَدِہِ سِہَامٌ ، فَلْیُمْسِکْ بِنِصَالِہَا ، لَا یَعْقِرُ بِہَا أَحَدًا۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ - یَتَخَطَّی الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ ، وَہُوَ حَامِلٌ مَا أَرَادَ حَمْلَہٗ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، وَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ ، وَہُوَ حَامِلٌ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ ، اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ دَخَلَ بِہٖ یُرِیْدُ بِدُخُوْلِہٖ الصَّلَاۃَ ، أَوْ أَنْ یَکُوْنَ اِذَا دَخَلَہٗ، یُرِیْدُ بِہٖ الصَّدَقَۃَ ، فَأَمَّا أَنْ یَدْخُلَ بِہٖ یُرِیْدُ تَخَطِّیَ الْمَسْجِدِ ، فَاِنَّ ذٰلِکَ مَکْرُوْہٌ .وَقَالُوْا : قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَرَادَ بِمَا ذَکَرْنَا ، فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ مُوْسَی ، الْاِدْخَالَ لِلصَّدَقَۃِ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ، ہَلْ نَجِدُ شَیْئًا مِنَ الْآثَارِ یَدُلُّ عَلَیْہِ۔
٦٧٥٨: ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد سے گزرے یا مساجد سے گزرے اور اس کے ہاتھ میں تیر ہوں۔ تو وہ اس کا پھل ہاتھ میں تھام لے۔ کہیں اس کے ساتھ کسی کو زخمی نہ کر دے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مسجد سے گزرنے میں کچھ حرج نہیں خواہ آدمی کوئی چیز اٹھانے والا ہو۔ انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ کسی کو مناسب نہیں کہ وہ مسجد میں کوئی چیز اٹھاکر گزرے سوائے اس کے کہ وہ نماز یا صدقہ کا ارادہ رکھتا ہو اور اگر وہ مسجد کو عبور کرنا چاہتا ہو تو یہ مکروہ ہے۔ مذکورہ روایت میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ کے لیے داخل ہوئے ہوں۔
تخریج : بخاری فی الفتن باب ٧‘ مسلم فی البر ١٢٠‘ نسائی فی المساجد باب ٢٦‘ ابن ماجہ فی الادب باب ٥١‘ دارمی فی المقدمہ باب ٥٣‘ مسند احمد ٣؍٣٠٨۔
خلاصہ الزام :
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ مسجد سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ کوئی چیز اٹھائے ہوئے ہو۔
فریق ثانی : مسجد میں سے کسی چیز کو اٹھاکر گزرنا ویسے عبور کے لیے گزرنا جائز نہیں بلکہ مکروہ ہے۔
اس پر آثار سے دلالت :