۶۷۵۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہٗ کَانَ یَفْعَلُہٗ، یَعْنِی : یَضَعُ اِحْدَی الرِّجْلَیْنِ عَلَی الْأُخْرٰی وَقَالَ : اِنَّمَا کُرِہَ لَہٗ ذٰلِکَ أَنْ یَفْعَلَہٗ بَیْنَ یَدَی الْقَوْمِ ، مَخَافَۃَ أَنْ یَنْکَشِفَ .وَالْوَجْہُ الْأَوَّلُ عِنْدِی أَشْبَہُ - مِنْ ہٰذَا .أَلَا تَرٰی اِلٰی قَوْلِ کَعْبٍ اِنَّہَا لَا تَصْلُحُ لِبَشَرٍ ۔ فَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ الْمَعْنَی الَّذِیْ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، لَمْ یَقُلْ ذٰلِکَ کَعْبٌ .وَلٰـکِنَّہٗ اِنَّمَا قَالَ ذٰلِکَ ، لِعِلْمِہٖ بِنَہْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ لِمَا کَانَ عَلَیْہِ مِنَ اتِّبَاعِ مَنْ قَبْلَہٗ، ثُمَّ نَسَخَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ یَعْلَمْہُ کَعْبٌ ، فَکَانَ عَلَی الْأَمْرِ الْأَوَّلِ ، وَعَلِمَہٗ غَیْرُہٗ، فَرَجَعَ اِلَیْہٖ، وَتَرَکَ مَا تَقَدَّمَہُ .
٦٧٥٧: حمید نے حسن (رح) سے روایت کی کہ وہ اس پر عمل کرتے تھے یعنی ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا کرتے تھے اور فرماتے یہ اس وقت مکروہ ہے جب کسی کے سامنے کیا جائے تاکہ بےپردگی نہ ہوجائے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں میرے ہاں پہلی وجہ زیادہ مناسب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ کعب فرماتے ہیں ” انہا لا تصلح لبشر “ اگر یہ معنی جو حضرت حسن (رح) نے ذکر کیا مراد ہوتا تو حضرت کعب یہ نہ کہتے۔ بلکہ آپ نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ممانعت کا علم ہونے کی بنیاد پر یہ بات فرمائی ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ پر پہلے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور حضرت کعب (رض) کو اس کا علم نہ ہوا تو وہ پہلے حکم پر ہی قائم رہے جبکہ دوسرے حضرات کو اس کا علم ہوگیا اور انھوں نے پہلے حکم کو ترک کر کے دوسرے کی طرف رجوع کرلیا۔