۶۷۶۲ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ھِلَالٍ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی ھٰذَا فَکَرِہُوْا الْمُعَانَقَۃَ ، مِنْہُمْ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِہَا بَأْسًا ، وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلَی ذٰلِکَ ، أَبُوْ یُوْسُفَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ .وَکَانَ مِمَّا احْتَجُّوْا بِہٖ فِیْ ذٰلِکَ ۔
٦٧٦٢: حنظلہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم نے عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے معانقہ کو اس روایت کی بناء پر مکروہ قرار دیا ہے۔ ان میں امام ابوحنیفہ (رح) اور محمد (رح) ہیں۔ فریق ثانی کا کہنا ہے اس میں کوئی حرج نہیں یہ امام ابو یوسف (رح) نے اختیار کیا ہے۔ دلیل یہ روایات ہیں :