۶۷۶۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، وَیَزِیْدُ ابْنُ زُرَیْعٍ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ السَّدُوْسِیِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُمْ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَیَنْحَنِیْ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ ، اِذَا الْتَقَیْنَا ؟ .قَالَ : لَا قَالُوْا ، فَیُعَانِقُ بَعْضُنَا بَعْضًا ؟ قَالَ لَا .قَالُوْا : أَفَیُصَافِحُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ ؟ قَالَ تَصَافَحُوْا۔
٦٧٦١: حنظلہ سدوسی نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم ایک دوسرے کے لیے جھکیں جبکہ ایک دوسرے سے ملیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا۔ پھر ایک دوسرے سے معانقہ کریں آپ نے فرمایا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا۔ کیا ایک دوسرے سے مصافحہ کریں آپ نے فرمایا مصافحہ کرو۔
تخریج : ابن ماجہ فی الادب باب ١٥۔
خلاصہ الزام
: امام ابوحنیفہ و محمد رحمہم اللہ نے معانقہ کو مکروہ قرار دیا ہے۔ فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ اس میں چنداں حرج نہیں ہے اس قول کو امام ابو یوسف (رح) نے اختیار کیا ہے۔