hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6788

.

الطحاوي

6788
Al Tahawi
۶۷۸۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ الْأَصْبَہَانِیِّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عُمَارَۃَ عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِیْ زُرْعَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ، فَاِذَا بِتَمَاثِیْلَ .فَقَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَہَبَ یَخْلُقُ خَلْقًا کَخَلْقِی ، فَلْیَخْلُقُوْا ذَرَّۃً ، أَوْ لِیَخْلُقُوْا حَبَّۃً ، أَوْ لِیَخْلُقُوْا شَعِیْرَۃً ۔ قَالَ : أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ ذَاہِبُوْنَ اِلٰی کَرَاہِیَۃِ اتِّخَاذِ مَا فِیْہِ الصُّوَرُ مِنْ الثِّیَابِ ، وَمَا کَانَ یُوْطَأُ مِنْ ذٰلِکَ وَیُمْتَہَنُ ، وَمَا کَانَ مَلْبُوْسًا ، وَکَرِہُوْا کَوْنَہُ فِی الْبُیُوْتِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ یُوْطَأُ وَیُمْتَہَنُ ، فَلَا بَأْسَ بِہٖ ، وَکَرِہُوْا مَا سِوٰی ذٰلِکَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ۔
٦٧٨٥: ابو زرعہ کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ (رض) کے ساتھ دار مروان میں داخل ہوا تو اچانک اس میں مورتیوں کو دیکھا تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بنانے لگا۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ ایک ذرہ بنا کردکھائیں یا ایک دانہ بنا کردکھائیں یا ایک جو بنا کردکھائیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کہ ایک جماعت علماء کی اس طرف گئی ہے کہ اس کپڑے کا استعمال جس میں تصاویر ہوں خواہ اس کو پاؤں میں روندا جائے تاکہ اس کی تذلیل کی جائے یا اس کو پہنا جائے بہرحال اس کا استعمال مکروہ ہے بلکہ اس کا گھروں کے اندر رکھنا بھی مکروہ ہے انھوں نے ان آثار سے استدلال کیا ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ جن تصاویر والے کپڑے کو روندا یا اس کی تذلیل کی جاتی ہے اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں اور اس کے علاوہ مکروہ ہے ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : بخاری فی اللباس باب ٩٠‘ والتوحید باب ٥٦‘ مسلم فی اللباس روایت ١٠١۔