۶۷۹۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ کَانَ ثَوْبٌ فِیْہِ تَصَاوِیْرُ ، فَجَعَلْتُہٗ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَکَرِہَہٗ، أَوْ قَالَتْ : فَنَہَانِیْ فَجَعَلْتُہٗ وَسَائِدَ۔فَقَالَ أَہْلُ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ : فَمَا کَانَ مِمَّا یُوْطَأُ فَلَا بَأْسَ لِہٰذِہِ الْآثَارِ ، وَمَا کَانَ مِنْ غَیْرِ مَا یُوْطَأُ ، فَہُوَ الَّذِیْ جَائَ تْ فِیْہِ الْآثَارُ الْأُوَلُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ اسْتَثْنٰی مِمَّا نَہٰی عَنْہُ مِنَ الصُّوَرِ ، اِلَّا مَا کَانَ رَقْمًا فِیْ ثَوْبٍ .
٦٧٩١: عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں ایک کپڑا تھا جس میں تصاویر تھیں اس کو میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا جبکہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے۔ تو آپ نے اس بات کو ناپسند کیا یا اس طرح کہا کہ آپ نے مجھے منع فرمایا تو میں نے اس کے تکئے بنا لئے۔ فریق ثانی نے ان آثار کے پیش نظریہ استدلال کیا کہ جو روندا جائے اس میں کوئی حرج نہیں اور پہلے آثار میں جس کا تذکرہ ہے وہ ہے جو اس کے علاوہ استعمال کیا جانے والا ہے جو کہ درست نہیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جن تصاویر کی ممانعت فرمائی ان میں سے جو مستثنیٰ ہیں ان کا تذکرہ فرمایا یعنی جو کہ کپڑے پر چھپی ہوئی ہیں۔ (ملاحظہ ہوں)
تخریج : مسلم فی اللباس ٩٣‘ نسائی فی الزینہ باب ١١٠‘ دارمی فی الاستیذان باب ٣٣‘ مسند احمد ٦؍١٧٢۔