۶۷۹۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، أَنَّہَا اسْتَتَرَتْ بِنُمْرُقَۃٍ فِیْہَا تَصَاوِیْرُ .فَلَمَّا رَآہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَامَ عَلَی الْبَابِ ، فَلَمْ یَدْخُلْ ، فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْہِہِ الْکَرَاہَۃَ .فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ، وَاِلٰی رَسُوْلِہٖ ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ ؟ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ ہٰذِہِ النُّمْرُقَۃِ ؟ قُلْتُ : اشْتَرَیْتُہَا لَک ؛ لِتَقْعُدَ عَلَیْہَا ، وَتَتَوَسَّدَہَا .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ أَصْحَابَ ہٰذِہٖ الصَُّوَرِ ، یُقَدَّمُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُمْ : أَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ .ثُمَّ قَالَ اِنَّ الْبَیْتَ الَّذِیْ فِیْہِ الصُّوَرُ ، لَا تَدْخُلُہُ الْمَلَائِکَۃُ۔
٦٧٩٠: قاسم بن محمد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) امّ المؤمنین (رض) نے ایک گدیلے کو بچھایا جس پر تصاویر تھیں جب اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے حضرت عائشہ (رض) نے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھی تو کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے کیا غلطی کی جو بھی غلطی ہے اس کی میں اللہ اور اس کے رسول سے معافی مانگتی ہوں ؟ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے ؟ میں نے کہا اس کو میں نے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر سہارا لگائیں۔ اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان تصاویر والے قیامت کے دن آئیں گے اور ان کو کہا جائے گا جو تم نے بنایا ان کو زندہ کرو۔ پھر فرمایا وہ گھر جس میں تصاویر ہوں وہاں فرشتے نہیں آتے۔
تخریج : بخاری فی النکاح باب ٧٦‘ مالک فی الاستیذان ٨‘ مسند احمد ٦؍٣٤٦۔