۶۷۹۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : اشْتَکٰی أَبُو طَلْحَۃَ بْنُ سَہْلٍ فَقَالَ لِیْ عُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ: ہَلْ لَک فِیْ أَبِیْ طَلْحَۃَ تَعُوْدُہٗ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَجِئْنَاہٗ، فَدَخَلْنَا عَلَیْہٖ، وَتَحْتَہٗ نَمَطٌ فِیْہِ صُوْرَۃٌ، فَقَالَ : انْزِعُوْا ہٰذَا النَّمَطَ ، فَأَلْقُوْھُ عَنِّیْ .فَقَالَ لَہٗ عُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ : أَوَمَا سَمِعْتَ ، یَا أَبَا طَلْحَۃَ ، رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ نَہٰی عَنِ الصُّوْرَۃِ ؟ قَالَ اِلَّا رَقْمًا فِیْ ثَوْبٍ، أَوْ ثَوْبًا فِیْہِ رَقْمٌ ؟ قَالَ : بَلٰی ، وَلٰـکِنَّہٗ أَطْیَبُ لِنَفْسِی ، فَأَمِیطُوْھُ عَنِّی۔
٦٧٩٣: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ بن سہیل بیمار ہوگئے تو مجھے عثمان بن حنیف نے کہا کیا تم ابو طلحہ کی بیمار پرسی کرو گے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت میں آئے اور ان کے ہاں داخل ہوئے ان کے نیچے گدا تھا جس پر تصویر تھی تو انھوں نے کہا اس گدے کو میرے نیچے سے کھینچ دو اور دور پھینک دو ۔ ان کو عثمان بن حنیف نے کہا کیا تم نے اے طلحہ نہیں سنا جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تصویر سے منع فرمایا اور فرمایا مگر وہ جو کپڑے پر چھپی ہو۔ یا ایسا کپڑا ہو جس میں تصویر چھپی ہوں انھوں نے کہا کیوں نہیں لیکن میرے لیے سکون کا باعث یہ ہے اس لیے اس کو مجھ سے دور کر دو ۔