۶۷۹۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنْ أَبِی النَّضْرِ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ مَکَانَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ۔فَثَبَتَ بِمَا رَوَیْنَا خُرُوْجُ الصُّوَرِ الَّتِیْ فِی الثِّیَابِ ، مِنِ الصُّوَرِ الْمَنْہِیِّ عَنْہَا ، وَثَبَتَ أَنَّ الْمَنْہِیَّ عَنْہُ، الصُّوَرُ الَّتِیْ ھِیَ : نَظِیْرُ مَا یَفْعَلُہُ النَّصَارٰی فِیْ کَنَائِسِہِمْ ، مِنِ الصُّوَرِ فِیْ جُدْرَانِہَا ، وَمِنْ تَعْلِیقِ الثِّیَابِ الْمُصَوَّرَۃِ فِیْہَا .فَأَمَّا مَا کَانَ یُوْطَأُ وَیُمْتَہَنُ ، وَیُفْرَشُ ، فَہُوَ خَارِجٌ مِنْ ذٰلِکَ ، وَہٰذَا مَذْہَبُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالَی.
٦٧٩٤: مالک نے ابوالنضر سے بیان کیا اور انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی البتہ انھوں نے عثمان بن حنیف کی جگہ سہل بن حنیف کہا ہے۔ ان روایات سے ثابت ہوگیا کہ کپڑوں میں چھپی ہوئی تصاویر ممنوعہ تصاویر سے خارج ہیں۔ اور اس سے ثابت ہوا کہ اس میں ممنوعہ تصاویر سے مراد وہ تصاویر ہیں جن کو نصاری وغیرہ اپنے گرجہ گاہوں میں بناتے تھے یعنی دیوار پر بنی ہوئی تصاویر اور دیواروں پر تصاویر والے کپڑوں میں جو بنی ہوں اور ان کو لٹکایا جائے۔ البتہ جو روندی جائیں اور ان کی تذلیل کی جائے اور ان کو بچھایا جائے وہ اس سے خارج ہیں۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔