۶۷۹۸ : حَدَّثَنَا بَکَّارٌ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُمْرَانَ ، قَالَ : ثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِیْ جَمِیْلَۃَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، اِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، اِنَّمَا مَعِیْشَتِیْ مِنْ صَنْعَۃِ یَدِیْ، وَأَنَا أَصْنَعُ ہٰذِہِ التَّصَاوِیْرَ .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا أُحَدِّثُکَ اِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ صَوَّرَ صُوْرَۃً ، فَاِنَّ اللّٰہَ مُعَذِّبُہٗ عَلَیْہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، حَتّٰی یَنْفُخَ فِیْہَا الرُّوْحَ ، وَلَیْسَ بِنَافِخٍ أَبَدًا۔قَالَ : فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیدَۃً ، وَاصْفَرَّ وَجْہُہٗ فَقَالَ وَیْحَکَ ، اِنْ أَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تَصْنَعَ ، فَعَلَیْکَ بِالشَّجَرِ ، وَکُلِّ شَیْئٍ لَیْسَ فِیْہِ رُوْحٌ۔
٦٧٩٨: سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اس نے کہا اے ابن عباس (رض) ! میرا گزر اوقات ہاتھ کی صنعت سے ہے اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں ابن عباس (رض) نے فرمایا میں تمہیں وہی بات بیان کروں گا جو میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے آپ نے فرمایا جس نے ایک تصویر بھی بنائی اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کو عذاب دیتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈالے اور وہ کبھی بھی اس میں روح نہ ڈال سکے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس آدمی کا رنگ زرد ہوگیا آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے اگر تو نے ضرور تصویر بنانی ہے تو درخت کی بناؤ اور ہر اس چیز کی بناؤ جس میں روح نہیں۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ١٠٤‘ مسلم فی اللباس ١٠٠‘ ابو داؤد فی الادب باب ٨٨‘ ترمذی فی اللباس باب ١٩‘ نسائی فی الزینہ باب ١١٢‘ مسند احمد ١؍٢١٦‘ ٢؍١٤٥۔