۶۷۹۹ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَوْنٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔وَقَدْ دَلَّ عَلٰی صِحَّۃِ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ ہٰذَا، قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنَّ اللّٰہَ مُعَذِّبُہُ عَلَیْہَا ، حَتّٰی یَنْفُخَ فِیْہَا الرُّوْحَ۔فَدَلَّ ذٰلِکَ ، عَلٰی أَنَّ مَا نُہِیَ مِنْ تَصْوِیْرِہٖ، ہُوَ مَا یَکُوْنُ فِیْہِ الرُّوْحُ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ، عَنْ غَیْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُصَوِّرُوْنَ یُعَذَّبُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَیُقَالُ لَہُمْ : أَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ۔
٦٧٩٩: سفیان نے عون سے روایت کی ہے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ ابن عباس (رض) نے جو بات کہی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے اس پر دلالت مل گئی کہ ” ان اللہ معذبہ علیہا حتی ینفخ فیہا الروح “ اس کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک عذاب دیتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈالے (نہ وہ ڈال سکے گا نہ وہ چھوٹے گا) اس سے یہ دلالت ملی کہ جو تصویر ممنوع ہے وہ ذی روح کی تصویر ہے اور اس سلسلے میں حضرت ابن عباس (رض) کے علاوہ صحابہ کرام سے بھی روایات وارد ہیں (ملاحظہ ہوں) کہ مصوروں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا جو تم نے بنایا اس کو زندہ کرو۔