۶۸۰۳ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیٰی ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَوَّرَ صُوْرَۃً ، عُذِّبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یَنْفُخَ فِیْہَا الرُّوْحَ ، وَلَیْسَ بِنَافِخٍ۔فَمَعْنٰی ْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، مَعْنٰی مَا رَوَیْنَاہٗ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلَی ھٰذَا الْمَعْنَی .
٦٨٠٣: عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کوئی تصویر بنائی اس کو قیامت میں اس وقت تک عذاب ہوگا جب تک وہ اس میں روح نہ ڈالے اور وہ اس میں روح ڈال نہیں سکتا۔ ان آثار کا معنی وہی ہے جو ابن عباس (رض) کے اثر کا ہم نے روایت کیا ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں اور بھی ایسی روایات ہیں جو اس معنی پر دلالت کرتی ہیں۔
مزید روایات :